بلاول بھٹو کی تقاریر حالات خراب کر سکتی ہیں، خواجہ آصف سے متعلق رویہ مناسب نہیں تھا: رانا ثنا اللہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہوں۔

latest urdu news

بلاول بھٹو کے بیان پر رانا ثنا اللہ کا ردعمل

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تقاریر سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر سکتی ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خواجہ آصف کے بارے میں بلاول بھٹو کا طرزِ گفتگو مناسب نہیں تھا۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی رہنماؤں کو ایک دوسرے کے بارے میں ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔

"قومی رہنما کے طور پر بات کرنی چاہیے”

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری مستقبل میں قومی سطح کی قیادت کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں نفرت یا سخت بیانات کے بجائے مفاہمت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی روایت کبھی بھی اپنے رہنماؤں کو توہین آمیز انداز میں جماعت سے نکالنے یا ان کے خلاف غیر مناسب زبان استعمال کرنے کی نہیں رہی۔

بلاول بھٹو: پاکستان میں سیاست کو دشمنی نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ بنانا ہوگا

آزاد کشمیر کے معاملے پر مؤقف

وزیراعظم کے مشیر نے آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے کیا، اور وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق وفاقی حکومت اس فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنے بیانات میں بالواسطہ طور پر اس فیصلے سے اختلاف کا اظہار کر رہے ہیں۔

خواجہ آصف سے متعلق تنازع کیا ہے؟

یاد رہے کہ دو روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو وفاقی کابینہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ کشمیر سے متعلق خواجہ آصف کے بیان پر وزیراعظم شہباز شریف کو وضاحت کرنی چاہیے کہ آیا یہ وفاقی حکومت کی سرکاری پالیسی ہے یا وزیر دفاع کی ذاتی رائے۔

سیاسی اختلافات میں احتیاط کی ضرورت

حالیہ بیانات کے بعد حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، کے درمیان سیاسی اختلافات پر بھی بحث جاری ہے۔ تاہم دونوں جماعتیں وفاقی حکومت میں اتحادی ہیں اور مختلف قومی معاملات پر ایک ساتھ کام کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہوتا ہے، تاہم عوامی سطح پر دیے جانے والے بیانات میں محتاط رویہ سیاسی استحکام اور حکومتی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter