تعلیم قومی ترقی کی بنیاد ہے، مگر پاکستان میں شرح خواندگی میں سست پیش رفت اور تعلیمی نظام کے بنیادی مسائل اب بھی توجہ طلب ہیں۔
بلاشبہ تعلیم انسان کے لیے ایسا قیمتی سرمایہ ہے جس کے بغیر زندگی کے کسی بھی شعبے میں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ تعلیم نہ صرف انسان کو شعور اور آگہی فراہم کرتی ہے بلکہ اسے بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے اور معاشرے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر آئین پاکستان کی شق 25-A کے تحت ریاست پانچ سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔
پاکستان کا تعلیمی نظام اور ذریعہ تعلیم کا مسئلہ
قیام پاکستان سے لے کر آج تک مختلف حکومتوں نے تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کے دعوے کیے۔ جمہوری حکومتیں ہوں یا آمریت کے ادوار، مختلف تعلیمی پالیسیاں اور منصوبے متعارف کرائے جاتے رہے۔ 1947ء سے اب تک تعلیم کے شعبے میں 22 سے زائد پالیسیاں اور منصوبے سامنے آچکے ہیں، تاہم ان میں سے بعض مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہ کرسکے۔
تعلیمی نظام میں مختلف تجربات بھی کیے گئے، لیکن ایک بنیادی سوال آج تک پوری طرح حل نہیں ہوسکا کہ پاکستان میں تعلیم کا ذریعہ کیا ہونا چاہیے۔ کیا انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے، اردو میں تعلیم دی جائے یا بچوں کو ان کی مادری اور علاقائی زبانوں میں تعلیم فراہم کی جائے؟ اس بنیادی مسئلے پر واضح اور مستقل پالیسی نہ ہونے کا اثر تعلیمی معیار اور طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت پر بھی پڑتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد طلبہ کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا، جو ان کے لیے تعلیمی عمل میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس لیے مؤثر تعلیمی نظام کے لیے زبان کے مسئلے پر بھی سنجیدہ اور قابلِ عمل پالیسی کی ضرورت ہے۔
8 ستمبر کو عالمی یوم خواندگی کیوں منایا جاتا ہے؟
خواندگی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 8 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یوم خواندگی منایا جاتا ہے۔ 17 نومبر 1965ء کو یونیسکو کی جنرل کانفرنس میں ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یوم خواندگی منانے کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ پہلی مرتبہ یہ دن 1966ء میں منایا گیا۔
عالمی یوم خواندگی کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں موجود ناخواندہ افراد کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور خواندگی کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کو اجاگر کرنا ہے۔ اس موقع پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور مختلف این جی اوز آگاہی تقریبات اور دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں۔
سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ اب سبزیاں بھی اگانا ہونگی، مراسلہ جاری
پاکستان کی شرح خواندگی خطے سے پیچھے
وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کی بنیاد پر فافن کی جنوبی ایشیائی ممالک کی شرح خواندگی سے متعلق جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد ہے، جو جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ترین شرحوں میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2018-19 کے مقابلے میں شرح خواندگی میں صرف 3 فیصد اضافہ ہوا، جو تعلیمی میدان میں پیش رفت کی سست رفتار کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستان میں مردوں کی شرح خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین کی شرح خواندگی 54 فیصد بتائی گئی ہے، جو صنفی فرق کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں شرح خواندگی 68 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ جبکہ بلوچستان میں 49 فیصد کے ساتھ سب سے کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں شرح خواندگی 77 فیصد جبکہ بالغ آبادی میں یہ شرح 60 فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں خطے کی اوسط شرح خواندگی 78 فیصد بتائی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو اس میدان میں ابھی خاصی پیش رفت کی ضرورت ہے۔
خواندگی پائیدار ترقی کی بنیاد
خواندگی محض پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو معاشی، سماجی اور ماحولیاتی معاملات میں بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تعلیم انسان کے لیے زندگی بھر سیکھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ یہی بنیاد معاشی ترقی، سماجی استحکام، بہتر روزگار اور ایک پرامن معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے خواندگی میں بہتری کو محض تعلیمی شعبے کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے قومی ترقی کے بنیادی تقاضوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔
جدید اور یکساں تعلیمی مواقع کی ضرورت
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملک کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کے کردار کو سمجھتے ہوئے اس شعبے میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ نصاب کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ تمام بچوں کے لیے کم از کم میٹرک تک مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
پاکستان میں تعلیمی نظام کی نگرانی، نصاب پر تحقیق، نصاب کی تدوین و توثیق اور تعلیمی سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا اہم کردار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت تعلیمی معیار بہتر بنانے، اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے اور شرح خواندگی میں تیزی سے اضافہ کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
قائداعظم کا تعلیمی وژن آج بھی اہم
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی تعلیم کو ملکی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا۔ 27 دسمبر 1947ء کو کراچی میں پاکستان ایجوکیشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کی ترقی کے لیے ایسی تعلیمی پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے جو عوام کے شعور، ملکی تاریخ و ثقافت اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
قائداعظم نے تعلیم کو محض حصول علم تک محدود رکھنے کے بجائے نئی نسل کی کردار سازی، سائنس اور فنی تعلیم کو بھی ضروری قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک پاکستان کو ترقی کے لیے سائنس، معاشیات، شماریات، صنعت اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبوں میں آگے بڑھنا ہوگا۔
آج بھی پاکستان کے لیے یہی چیلنج موجود ہے کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک مساوی رسائی فراہم کی جائے اور ایسا نظام تعلیم تشکیل دیا جائے جو نہ صرف خواندگی کی شرح میں اضافہ کرے بلکہ نوجوان نسل کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق باصلاحیت، باکردار اور ذمہ دار شہری بنانے میں بھی مدد دے۔
