وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت اجلاس میں جیل اصلاحات، قیدیوں کی معافی، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور دیگر اہم امور سے متعلق متعدد فیصلے کیے گئے۔
پشاور: خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے جیل خانہ جات اور تحفظِ گواہان سمیت مختلف اہم معاملات سے متعلق فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں صوبائی محتسب کی کارکردگی رپورٹ سمیت مختلف انتظامی اور قانونی امور بھی زیرِ بحث آئے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کابینہ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق بیان میں بتایا کہ اجلاس میں متعدد تجاویز اور معاملات پر غور کیا گیا اور ضروری منظوری دی گئی۔
صوبائی محتسب کی کارکردگی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری
کابینہ اجلاس میں صوبائی محتسب کے دفتر کی 2025 کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
کابینہ نے رپورٹ کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔ اس رپورٹ کے ذریعے صوبائی محتسب کے دفتر کی گزشتہ سال کی کارکردگی اور مختلف معاملات سے متعلق پیش رفت اسمبلی کے سامنے رکھی جائے گی۔
قیدیوں کو دو ماہ کی معافی دینے کا فیصلہ
صوبائی کابینہ نے معمولی نوعیت کے مقدمات میں قید افراد کے لیے دو ماہ کی سزا میں معافی دینے کی بھی منظوری دی ہے۔
اس کے علاوہ خصوصی معافی سے متعلق فیصلے کے بعد قواعد و ضوابط کے مطابق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ اجلاس میں دو ماتحت یونٹس کے قیام، حکومت سے حکومت یعنی G2G معاہدے اور نظرثانی شدہ نرخوں سے متعلق امور کی بھی منظوری دی گئی۔
مریم نواز پر تنقید، مہربانو قریشی کی شفیع جان کے بیان کی مذمت
گاڑیوں کی رجسٹریشن سمیت دیگر معاملات بھی زیرِ غور
اجلاس میں گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق معاملات سمیت مختلف انتظامی امور بھی زیرِ بحث آئے۔ کابینہ نے متعلقہ معاملات پر غور کے بعد ضروری فیصلوں کی منظوری دی۔
حکومت کی جانب سے جیل خانہ جات اور تحفظِ گواہان سے متعلق قوانین کی منظوری کو بھی صوبے میں قانونی اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
گلیات سے مری کو پانی کی فراہمی کا معاملہ سی سی آئی میں جائے گا
شفیع جان کے مطابق کابینہ اجلاس میں گلیات سے مری کو پانی کی تقسیم اور فراہمی کے طریقہ کار، نرخوں اور واجبات سے متعلق معاملہ بھی پیش کیا گیا۔
کابینہ نے اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل (CCI) میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
پانی کی تقسیم اور اس کے واجبات سے متعلق معاملہ مختلف متعلقہ فریقوں کے درمیان انتظامی اور مالی پہلو رکھتا ہے، اس لیے کابینہ نے اسے مشترکہ مفادات کونسل کے فورم پر لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یوں خیبر پختونخوا کابینہ کے اجلاس میں ایک جانب جیل خانہ جات اور تحفظِ گواہان جیسے قانونی معاملات پر فیصلے کیے گئے، جبکہ دوسری جانب قیدیوں کی سزا میں معافی، انتظامی یونٹس کے قیام، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور پانی کی فراہمی سمیت مختلف صوبائی امور پر بھی پیش رفت کی گئی۔
