موسمیاتی تبدیلی، ہمالیہ میں قدرتی آفات کا خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیپال اور چین کی سرحد پر حالیہ تباہ کن سیلاب نے ہمالیہ میں برف پوش پہاڑوں کے دامن میں آباد لاکھوں افراد کو درپیش بڑھتے خطرات ایک بار پھر نمایاں کردیے ہیں۔ ابتدائی سائنسی شواہد کے مطابق ایک بڑے گلیشیئر کے حصے کے ٹوٹنے اور لینڈ سلائیڈ کے بعد پانی، برف، چٹانوں اور ملبے کی انتہائی طاقت ور لہر نے تباہی مچائی، جب کہ ماہرین موسمیاتی تبدیلی کو ایسے واقعات کے بڑھتے خطرے کا اہم عنصر قرار دے رہے ہیں۔

latest urdu news

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق شمالی نیپال میں لانگ ٹانگ لیرونگ پہاڑ کے بلند حصے سے گلیشیئر کا تقریباً 2 ہزار فٹ چوڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے آ گرا۔ برف کا یہ وسیع حصہ تقریباً 7 ہزار فٹ بلندی سے دریا کی جانب گرا جب کہ اسی دوران لینڈ سلائیڈ بھی ہوئی۔

گلیشیئر کے ٹوٹنے اور لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں برف، پانی، چٹانوں، مٹی اور بڑے پتھروں پر مشتمل ایک طاقت ور سیلابی ریلہ وجود میں آیا۔ یہ ریلہ لینڈے کھولا دریا میں جا گرا، جو آگے بھوٹے کوشی دریا سے ملتا ہے اور چین سے نیپال کی جانب بہتا ہے۔

عام طور پر اچانک آنے والے سیلاب کو شدید بارش سے جوڑا جاتا ہے، لیکن بلند پہاڑی علاقوں میں صورتِ حال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہاں گلیشیئر کا ٹوٹنا، برفانی تودہ، لینڈ سلائیڈ، گلیشیائی جھیل کا اچانک پھٹنا اور شدید بارش ایک دوسرے سے جڑ کر چند منٹوں میں تباہ کن سیلاب پیدا کرسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کی پروفیسر لز اسٹیفنز کے مطابق نیپال اور تبت جیسے بلند پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب صرف شدید بارش کے نتیجے میں نہیں آتے بل کہ لینڈ سلائیڈ، برفانی تودے اور دیگر قدرتی خطرات کی ایک پیچیدہ زنجیر بھی ایسے سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی خطرہ بڑھا رہی ہے

نیپال تیزی سے گرم ہوتے ہمالیائی خطے میں واقع ہے جہاں ہزاروں گلیشیئر موجود ہیں۔ برٹش انٹارکٹک سروے کی ماہر موسمیات ایلا گلبرٹ کے مطابق گلیشیئرز سکڑنے کے ساتھ زیادہ غیر مستحکم ہوسکتے ہیں اور ان میں اچانک انہدام کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں گلیشیئرز سے برف کے نقصان کی رفتار 2000 کے بعد دوگنی ہوچکی ہے۔ آئی سی آئی ایم او ڈی کی حالیہ تحقیق کے مطابق گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی یہ رفتار خطے میں آباد ان تقریباً 20 لاکھ افراد کے لیے بھی خطرات بڑھا رہی ہے جو گلیشیئرز کے نیچے اور ان کے بہاؤ کے راستوں کے قریب رہتے ہیں۔

تاہم سائنس دان یہ واضح کرتے ہیں کہ کسی ایک مخصوص گلیشیئر کے ٹوٹنے یا سیلاب کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینے کے لیے تفصیلی سائنسی تحقیق ضروری ہوتی ہے۔

پگھلتی برف پہاڑ کو غیر مستحکم کرتی ہے

گلیشیئر صرف برف کے دریا نہیں بل کہ پورے پہاڑی ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ بلند پہاڑوں میں برف اور مستقل منجمد زمین، جسے پرمافراسٹ کہا جاتا ہے، چٹانوں اور مٹی کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

درجہ حرارت بڑھنے سے جب گلیشیئر سکڑتے اور پرمافراسٹ پگھلتا ہے تو پہاڑوں کی بعض ڈھلوانیں غیر مستحکم ہو سکتی ہیں۔ نتیجتاً چٹانوں کے بڑے حصے اچانک ٹوٹ کر نیچے آ سکتے ہیں اور ان کے ساتھ برف، مٹی اور پانی شامل ہوکر انتہائی طاقت ور ملبے کا ریلہ بنا سکتے ہیں۔

برطانیہ کی کیلے یونیورسٹی کے ماہر جغرافیہ رچرڈ والر کے مطابق بلند پہاڑوں کو ایسے چٹانی ڈھانچوں کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جنہیں برف سے بھری دراڑیں ایک طرح سے جوڑے رکھتی ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ یہ برف پگھلتی ہے تو پہاڑوں کے بعض حصوں میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے اور بڑے پیمانے پر چٹانیں نیچے آ سکتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں تباہی لا رہی ہے، فوری اقدامات ناگزیر ہیں ،شہباز شریف

گلیشیائی جھیلیں بھی بڑا خطرہ

گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی جھیلیں بھی پہاڑی علاقوں میں ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اگر کسی جھیل میں پانی کی سطح بہت بڑھ جائے یا اس کا قدرتی بند کمزور پڑ جائے تو اچانک بند ٹوٹ سکتا ہے اور پانی، برف، چٹانوں اور ملبے کا ایک طاقت ور ریلہ پہاڑ سے نیچے آبادیوں کی جانب بہہ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گلیشیئر کے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے بڑھنے کے اثرات صرف پانی کی مقدار میں اضافے تک محدود نہیں بل کہ اس کے نتیجے میں پورا پہاڑی نظام زیادہ پیچیدہ اور غیر مستحکم ہوسکتا ہے۔

برٹش انٹارکٹک سروے کی ماہر موسمیات ایلا گلبرٹ کے مطابق گلیشیئرز کے سکڑنے سے ان میں اچانک انہدام کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جب کہ گلیشیئرز سے جڑی جھیلوں میں پانی کا بڑھتا دباؤ بھی اچانک سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔

شدید بارش بھی خطرہ بڑھا رہی ہے

موسمیاتی تبدیلی کے باعث خطرہ صرف برف پگھلنے سے نہیں بڑھ رہا۔ گرم ہوتی دنیا میں شدید بارشوں کے واقعات بھی زیادہ طاقت ور ہوسکتے ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں شدید بارش اگر برف کے بجائے پانی کی صورت میں ہو تو پہلے سے کمزور ڈھلوانوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مٹی کا کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جب کہ گلیشیئرز اور برفانی جھیلوں سے جڑے دیگر خطرات بھی ایک ہی وقت میں متحرک ہوسکتے ہیں۔

خطرہ صرف نیپال تک محدود نہیں

نیپال اگرچہ اس وقت ایک نمایاں مثال ہے، لیکن یہ مسئلہ صرف ہمالیہ تک محدود نہیں۔ دنیا کے وہ تمام بلند پہاڑی علاقے جہاں گلیشیئر اور پرمافراسٹ موجود ہیں، اسی نوعیت کے خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

ماہر جغرافیہ رچرڈ والر کے مطابق یورپ کے الپس سے لے کر جنوبی امریکا کے اینڈیز تک گلیشیئرز اور پرمافراسٹ میں تبدیلیاں پہاڑی علاقوں کو ایسے ہی خطرات سے دوچار کرسکتی ہیں۔

پیشگی وارننگ کیوں اہم ہے؟

ایسے واقعات میں پیشگی وارننگ نظام انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ریڈنگ کی ماہر موسمیات اور موسمیاتی تبدیلی کی ماہر ہانا کلوک کے مطابق نیپال میں موجود وارننگ نظام نے ممکنہ طور پر کئی جانیں بچانے میں مدد دی، لیکن بلند پہاڑوں میں حادثے کے آغاز اور سیلابی لہر کے آبادی تک پہنچنے کے درمیان وقت انتہائی کم ہوسکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سیلابی لہر نے ابتدائی تقریباً 14 میل کا فاصلہ صرف چند منٹ میں طے کیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے واقعات میں وارننگ جاری کرنے اور لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے لیے وقت کتنا محدود ہوسکتا ہے۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ نیپال کے تقریباً 3 ہزار گلیشیئرز کی مسلسل اور تفصیلی نگرانی ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ ہر گلیشیئر کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی عملی طور پر ممکن نہیں، اسی لیے سائنس دان جدید سیٹلائٹ نظام اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کو مستقبل کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلگری کے ماہر ارضیات ڈین شگر کے مطابق نئے سیٹلائٹ نظام نیپال اور ایسے دوسرے ممالک کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کی زیادہ بہتر نگرانی ممکن ہوگی۔

نیپال کا حالیہ سانحہ اس بڑے سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ گرم ہوتی دنیا میں پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مستقبل میں کس نوعیت کے خطرات کا سامنا ہوگا۔

دنیا بھر میں دو لاکھ سے زیادہ پہاڑی گلیشیئرز موجود ہیں اور ماہرین کے مطابق صدی کے اختتام تک ان میں سے بڑی تعداد، حتیٰ کہ بعض اندازوں کے مطابق نصف تک، ختم ہوسکتی ہے۔ اس کا اثر صرف برف کے ذخائر تک محدود نہیں رہے گا بل کہ دریاؤں کے بہاؤ، پانی کی دستیابی، پہاڑی ماحولیاتی نظام اور ان علاقوں میں آباد انسانی آبادیوں کی سلامتی پر بھی پڑے گا۔

آئی سی آئی ایم او ڈی کے مطابق ہندوکش ہمالیہ میں گلیشیئرز سے برف کے نقصان کی رفتار 2000 کے بعد دوگنی ہوچکی ہے۔ اس تیز رفتار تبدیلی کے اثرات پانی کے ذخائر سے لے کر سیلاب اور لینڈ سلائیڈ جیسے خطرات تک پھیل سکتے ہیں۔

نیپال کے حالیہ سیلاب کی مکمل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات ابھی جاری ہیں اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس مخصوص واقعے میں موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست کتنا کردار تھا۔

تاہم سائنس دانوں کے مطابق پگھلتے گلیشیئرز، پرمافراسٹ کے پگھلاؤ، غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانوں، شدید بارشوں اور گلیشیائی جھیلوں کے بڑھتے خطرات ایک ایسے مستقبل کی نشاندہی کررہے ہیں جس میں پہاڑی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے اچانک اور تباہ کن آفات کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

برف پوش پہاڑ دنیا کے لیے قدرت کا شاندار منظر ہیں، لیکن گرم ہوتی دنیا میں یہی پہاڑ ایسے خطرات بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جن کا اندازہ چند دہائیاں پہلے شاید اتنی شدت سے نہیں کیا جاتا تھا۔ نیپال کا واقعہ اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی ایک خطرناک جھلک ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter