قومی کرکٹر نے سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کے سوالات پر وضاحت طلب کرتے ہوئے اپنے موبائل فون کی واپسی اور طلب کیے جانے کی وجوہات بھی پوچھ لیں۔
قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بذریعہ کورئیر اپنا جواب ارسال کردیا، جس میں انہوں نے ادارے کی جانب سے طلب کیے جانے اور اپنے موبائل فون سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کو بھیجے گئے خط کے متن میں ادارے سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ انہیں کس بنیاد پر طلب کیا گیا اور ان سے کس معاملے میں پوچھ گچھ مطلوب تھی۔
محمد رضوان نے این سی سی آئی اے سے کیا سوالات کیے؟
ذرائع کے مطابق محمد رضوان نے اپنے جواب میں سوال اٹھایا کہ انہیں این سی سی آئی اے نے طلب کیوں کیا تھا۔ انہوں نے ادارے سے یہ بھی پوچھا کہ انہیں کس وجہ سے بلایا جا رہا ہے اور اس کی واضح وجوہات بتائی جائیں۔
قومی کرکٹر نے اپنے موبائل فون سے متعلق بھی وضاحت طلب کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رضوان نے خط میں سوال کیا کہ ان کا موبائل فون اب تک انہیں واپس کیوں نہیں کیا گیا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کارکردگی اچھی تھی، رن ریٹ پر باہر ہوئے:محمد رضوان
ڈسپلن کی خلاف ورزی سے متعلق وضاحت طلب
محمد رضوان نے خط میں ڈسپلن کی خلاف ورزی سے متعلق بھی سوال اٹھایا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جانب سے کسی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی گئی ہے تو انہیں بتایا جائے کہ انہوں نے کون سا ضابطہ توڑا ہے۔
انہوں نے این سی سی آئی اے سے یہ بھی جاننا چاہا کہ انہیں کس مخصوص معاملے یا الزام کے تحت طلب کیا جا رہا ہے۔
محمد رضوان کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں اٹھائے گئے سوالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی کرکٹر اپنے خلاف کارروائی یا طلب کیے جانے کی وجوہات کے بارے میں واضح معلومات چاہتے ہیں۔ تاہم این سی سی آئی اے کی جانب سے ان سوالات پر تاحال کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے متعلق ڈسپلن اور ضابطہ اخلاق کے معاملات بھی زیر بحث ہیں، تاہم محمد رضوان کے خط میں اٹھائے گئے سوالات اور این سی سی آئی اے کی کارروائی کے حوالے سے مزید تفصیلات متعلقہ ادارے کے باضابطہ مؤقف کے بعد ہی واضح ہوسکیں گی۔
