پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ حملے اور ایک پارٹی کارکن کی شہادت کا دعویٰ کرتے ہوئے انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انتخابی عمل پر پیپلز پارٹی کے تحفظات
مظفرآباد میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے آغاز سے ہی کشیدگی اور بے یقینی کی فضا موجود تھی۔ ان کے مطابق امن و امان کی صورتحال بھی تشویش ناک رہی، تاہم تحفظات کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوری عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مختلف مراحل پر اپنے خدشات متعلقہ حکام کے سامنے بھی رکھے تھے، لیکن ان کے بقول ان تحفظات کا مؤثر ازالہ نہیں کیا گیا۔
لطیف اکبر پر مبینہ حملے کا دعویٰ
قمر زمان کائرہ نے دعویٰ کیا کہ صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر ان کے انتخابی حلقے میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ اس واقعے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جان کی بازی ہار گیا ہے۔
تاہم، اس دعوے کی متعلقہ سرکاری اداروں یا الیکشن حکام کی جانب سے اس وقت تک باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پولنگ کے انتظامات پر اعتراضات
پیپلز پارٹی کے رہنما نے انتخابی انتظامات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ عملہ مقررہ وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ ان کے مطابق کئی مقامات پر عملہ صبح 11 یا ساڑھے 11 بجے پہنچا، جس سے ووٹنگ کا عمل متاثر ہوا۔
آزاد کشمیر انتخابات: مہاجرین کی نشستوں پر کل پولنگ، انتخابی سامان کی تقسیم جاری
قمر زمان کائرہ نے الزام عائد کیا کہ بعض علاقوں میں پولنگ عملے کو سیاسی کارکن اپنے ساتھ لے گئے اور بیلٹ پیپرز پر مہریں لگائی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حلقہ ایل اے 28 میں بازل نقوی کے انتخابی حلقے کی تین یونین کونسلوں تک پولنگ کا سامان ہی نہیں پہنچ سکا۔
انتخابات کی شفافیت پر سوال
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر انتخابی عمل کے انعقاد پر ہی تنازع کھڑا ہو جائے تو ایسی صورت میں نئی حکومت کی ساکھ متاثر ہوگی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ حلقہ ایل اے 27 میں بارشوں کے باعث انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا۔
ان کے بقول، موجودہ حالات میں ریاستی استحکام اور جمہوری عمل کے تحفظ کی ضرورت ہے، لیکن اگر انتخابات پر مسلسل سوالات اٹھتے رہیں تو عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
سرکاری مؤقف کا انتظار
قمر زمان کائرہ کے الزامات اور دعووں کے حوالے سے الیکشن کمیشن، ضلعی انتظامیہ یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ انتخابی بے ضابطگیوں یا تشدد سے متعلق تمام دعووں کی تصدیق تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
