کام کی مکمل آزادی چاہیے، اختیارات نہیں، ذمہ داری اہم ہے: یونس خان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سابق قومی کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان کرکٹ میں کوئی ذمہ داری دی جائے تو مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے، کیونکہ ان کے نزدیک عہدے یا اختیارات سے زیادہ نتائج دینا اہم ہے۔

latest urdu news

کردار ملے تو کام کرنے کی آزادی بھی ہونی چاہیے

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمینز سے یہی مطالبہ کیا ہے کہ اگر انہیں کوئی ذمہ داری سونپی جائے تو اسے مؤثر انداز میں نبھانے کے لیے مکمل آزادی بھی دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ اکثر یہ تاثر دیتے ہیں کہ یونس خان کو زیادہ اختیارات درکار ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کی خواہش صرف اتنی ہے کہ جس کردار کی ذمہ داری دی جائے، اس میں غیر ضروری مداخلت نہ ہو اور انہیں اپنی منصوبہ بندی کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔

"مجھے ٹیم بنانے دیں”

یونس خان کا کہنا تھا کہ وہ متعدد چیئرمینز پی سی بی سے یہ بات کر چکے ہیں کہ اگر انہیں کوئی رول دیا جائے تو ان کے ہاتھ نہ باندھے جائیں۔ ان کے مطابق، کسی بھی کوچ، مینٹور یا ٹیم آفیشل سے بہترین نتائج اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب اسے فیصلے کرنے اور اپنی حکمت عملی پر عمل درآمد کی مکمل آزادی حاصل ہو۔

انہوں نے کہا، "مجھے اگر کوئی ذمہ داری دی جائے تو مجھے اپنی ٹیم بنانے اور اپنے منصوبے کے مطابق کام کرنے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔”

پیکج یا اختیارات نہیں، نتائج اہم ہیں

سابق کپتان نے واضح کیا کہ ان کے لیے مالی مراعات یا اختیارات سے زیادہ اہمیت کام کی آزادی اور بہتر کارکردگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کبھی معاوضے یا پیکج کی بات کرنی بھی پڑے تو وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ٹیم کے اس رکن کے لیے کریں گے جو سب سے کمزور مالی پوزیشن میں ہو۔

اداکارہ ہما سلیم کے معروف کرکٹر پر سنگین الزامات، قانونی کارروائی کا اعلان

یونس خان کے مطابق، کسی بھی ادارے میں اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ذمہ دار افراد کو اعتماد کے ساتھ کام کرنے دیا جائے اور ان کی کارکردگی کو نتائج کی بنیاد پر پرکھا جائے۔

پاکستان کرکٹ کی واپسی ممکن ہے

یونس خان نے اس موقع پر پاکستان کرکٹ کے مستقبل پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم دوبارہ عالمی سطح پر مضبوط مقام حاصل کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے کھلاڑیوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور بڑے اہداف کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔

انہوں نے 2003 کے ورلڈ کپ کے بعد کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کئی سینئر کھلاڑی ٹیم سے الگ ہو گئے تھے، لیکن نئی نسل نے ذمہ داری سنبھالی اور پاکستان کرکٹ کو آگے بڑھایا۔ ان کے بقول، اگر موجودہ کھلاڑی بھی اسی جذبے کے ساتھ بڑی سوچ اپنائیں گے تو مثبت اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ذمہ داری اور وژن ہی کامیابی کی بنیاد

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی صرف صلاحیت سے نہیں بلکہ ذمہ داری، نظم و ضبط اور طویل المدتی سوچ سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر کھلاڑی اپنی کارکردگی کے ساتھ ٹیم کی بہتری کو بھی ترجیح دیں تو پاکستان کرکٹ ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter