اسپین کی سرحدوں پر رواں سال تارکین وطن کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں اب تک 50 ہزار سے زائد افراد یورپ پہنچنے کی کوشش کر چکے ہیں، جبکہ مختلف حادثات اور سمندری راستوں کے دوران کم از کم 57 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹس کے مطابق تارکین وطن کی بڑی تعداد افریقہ سے خطرناک سمندری راستوں کے ذریعے اسپین پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ کشتیوں میں سفر، خراب موسم اور سمندر کی طغیانی انسانی جانوں کے ضیاع کی بڑی وجوہات ہیں۔
اسپین کے حکام کے مطابق سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ سمندر میں ریسکیو آپریشنز بھی جاری ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ تارکین وطن کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کیے جائیں، تاکہ خطرناک سمندری سفر کے دوران پیش آنے والے المناک واقعات کو روکا جا سکے۔
اسپین میں غیرقانونی تارکین وطن کو ریلیف دینے کی اسکیم، 10 لاکھ سے زائد افراد نے قانونی حیثیت کے لیے درخواستیں جمع کرا دیں
