میڈرڈ: اسپین کی حکومت کی جانب سے غیرقانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے شروع کی گئی خصوصی اسکیم کے تحت 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقررہ مدت کے اختتام تک موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد توقعات سے کہیں زیادہ رہی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ یورپ میں جہاں کئی ممالک امیگریشن قوانین سخت کر رہے ہیں، وہیں اسپین انسانی ہمدردی اور سماجی انضمام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ان کے بقول اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہزاروں افراد قانونی شناخت اور بنیادی حقوق کے حصول کے منتظر تھے۔
حکومت نے اپریل میں اس پروگرام کا آغاز کرتے وقت اندازہ لگایا تھا کہ تقریباً 5 لاکھ افراد اس سے فائدہ اٹھائیں گے، تاہم درخواست گزاروں کی تعداد اس تخمینے سے دوگنی سے بھی زیادہ رہی۔ درخواست دینے والوں میں بڑی تعداد لاطینی امریکی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کو شناخت اور قانونی تحفظ سے محروم رکھنا نہ صرف اس فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسپین نے 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا منصوبہ منظور کر لیا
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد تارکین وطن کو بہتر مستقبل فراہم کرنا اور اسپین کو انسانی حقوق کے احترام کی علامت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ درخواست جمع کرانا قانونی حیثیت ملنے کی ضمانت نہیں۔ ہر درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور وہ مقررہ تاریخ سے قبل کم از کم پانچ ماہ مسلسل اسپین میں مقیم رہا ہے۔ تمام درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد ہی حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
