بینک صارفین سے ایس ایم ایس چارجز کی وصولی پر سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویش

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بینک صارفین سے ایس ایم ایس سروس کے نام پر وصول کیے جانے والے چارجز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں اے ٹی ایم، ویزا کارڈ اور ایس ایم ایس فیس سمیت مختلف بینکاری چارجز پر بھی غور کیا گیا۔

latest urdu news

اجلاس کے دوران سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ مختلف بینک صارفین سے ہر ایس ایم ایس پر 30 پیسے سے لے کر ڈھائی روپے تک وصول کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان چارجز کی مجموعی مالیت سالانہ تقریباً 200 ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے، جو صارفین پر اضافی مالی بوجھ ہے۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایسے صارفین کو بھی ایس ایم ایس بھیجے جا رہے ہیں جنہوں نے اس سروس کی ضرورت ظاہر نہیں کی، لیکن ان سے بھی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں، جس کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سینیٹ میں دنیش کمار کی سودی نظام پر تنقید، ایران سے پیٹرول درآمد قانونی بنانے کا مطالبہ

گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ ایس ایم ایس کی مد میں وصول ہونے والی رقم بینکوں کے بجائے ٹیلی کام کمپنیوں کو ادا کی جاتی ہے۔ تاہم سینیٹر عبدالقادر کا مؤقف تھا کہ ایک ایس ایم ایس کی اصل لاگت تقریباً 35 پیسے ہے، جبکہ مختلف پیکیجز اور دیگر مدات کے ذریعے صارفین سے زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے ہدایت جاری کی کہ ایس ایم ایس سروس صرف ان صارفین کو فراہم کی جائے جو اس کی خواہش رکھتے ہوں، جبکہ غیر ضروری پیغامات بھیج کر اضافی چارجز وصول کرنے کی روایت ختم کی جائے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter