امریکی افواج نے مسلسل تیسری رات ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی میڈیا نے بھی بعض علاقوں میں حملوں کی تصدیق کی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 45 منٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف تازہ فضائی آپریشن شروع کیا گیا، جس کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔
بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے۔ بیان کے مطابق حملوں میں بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس کے علاقوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ کارروائی میں ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات کو جدید ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس آپریشن کا مقصد ایران کی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
امریکی فوج نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی اہلکار تعینات ہیں، جو مکمل جنگی تیاری کی حالت میں موجود ہیں۔
عباس عراقچی کا ٹرمپ کو جواب، ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے، 20 فیصد ٹول بہت زیادہ ہے
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے بوشہر کے مختلف علاقوں پر ایک بار پھر فضائی حملے کیے ہیں، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو ایسے سپر آئل ٹینکروں کو ناکارہ بنا دیا گیا جو مبینہ طور پر بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا تجارتی جہازوں کو غیر قانونی راستہ اختیار کرنے پر اکسا رہا ہے اور جارحانہ اقدامات میں تعاون کرنے والوں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال برقرار رہی تو عالمی توانائی کے بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
نوٹ: اس خبر میں شامل متعدد دعوے امریکا اور ایران کے سرکاری بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ ان میں سے کئی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
