ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت بعض اہم مقدمات میں عدالتی کارروائی میں مہلت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اس حکمتِ عملی پر اندرونی سطح پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے پارٹی بانی عمران خان اور ان کی بہن علیمہ خان سے متعلق اہم عدالتی مقدمات میں ممکنہ پیش رفت کے پیش نظر پسِ پردہ سیاسی رابطوں کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حکمتِ عملی پر پارٹی کے اندر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کی کوشش ہے کہ بعض اہم مقدمات میں عدالتی کارروائی کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کرایا جا سکے تاکہ ممکنہ قانونی فیصلوں سے قبل سیاسی اور قانونی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر انداز میں ترتیب دیا جا سکے۔
مختلف سیاسی شخصیات سے رابطوں کی اطلاعات
ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر خان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے، پارٹی کے بقول، جاری قانونی کارروائیوں میں "کچھ مہلت” دلوانے کی کوشش کریں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محمود خان اچکزئی سے رانا ثناء اللہ سے رابطہ کرنے کی درخواست کی گئی، جبکہ سینیٹر راجا ناصر عباس پہلے ہی ایک ایسے وفاقی وزیر سے رابطے میں ہیں جنہیں ذرائع اسٹیبلشمنٹ کے قریب تصور کرتے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
کن مقدمات پر توجہ مرکوز ہے؟
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی فوری توجہ دو اہم مقدمات پر مرکوز ہے۔ ان میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس (190 ملین پاؤنڈ کیس) میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل، جبکہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمہ شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کو خدشہ ہے کہ اگر ان مقدمات میں جلد فیصلے آ گئے تو اس کے سیاسی اور قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اسی لیے عدالتی کارروائی میں مہلت کو نسبتاً بہتر حکمتِ عملی تصور کیا جا رہا ہے۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر قیادت دباؤ میں ہے: سلمان اکرم راجہ
علیمہ خان کے مقدمے پر تشویش
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے واقعات سے متعلق مقدمے پر خاص تشویش ہے، کیونکہ ان کے بقول یہ کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
پارٹی کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر اس مقدمے میں سزا سنائی جاتی ہے تو اس سے کارکنوں کے حوصلوں پر اثر پڑ سکتا ہے اور پارٹی کو مزید سیاسی اور تنظیمی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق علیمہ خان اس حکمتِ عملی سے مکمل طور پر متفق نہیں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر عدالت کی جانب سے سزا بھی سنائی جاتی ہے تو وہ قانونی عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، بجائے اس کے کہ عدالتی کارروائی مؤخر کرانے کے لیے کسی قسم کے انتظامات کیے جائیں۔
القادر ٹرسٹ کیس میں بھی تاخیر کی خواہش
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس کی اپیل کی سماعت میں بھی تاخیر چاہتی ہے۔ پارٹی کے بعض حکمتِ عملی سازوں کا خیال ہے کہ فوری عدالتی فیصلے کے مقابلے میں سماعت مؤخر ہونا سیاسی اور قانونی اعتبار سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پارٹی کو خدشہ ہے کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ سزا برقرار رکھتی ہے تو آئینی عدالت سے رجوع کرنے سے قبل قانونی امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے قبل عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے یا انہیں ضمانت پر رہا کرنے کی درخواستیں مسترد کر چکی ہے۔
پارٹی کے اندر مختلف آرا
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر اس معاملے پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ سیاسی شخصیات کے ذریعے عدالتی کارروائی میں تاخیر کی کوشش پارٹی کے اس مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی کہ وہ اپنے تمام مقدمات عدالتوں میں قانونی طریقے سے لڑ رہی ہے۔
رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے ان اطلاعات یا زیرِ سماعت مقدمات کے حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال نے پی ٹی آئی کے اندر اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ آیا قانونی ریلیف کے لیے سیاسی رابطوں کا راستہ اختیار کیا جائے یا عدالتی عمل کو بغیر کسی مداخلت کے اپنی طبعی رفتار سے آگے بڑھنے دیا جائے۔
