آپریشن شعبان میں مزید 3 مبینہ دہشت گرد ہلاک، کارروائیاں جاری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سکیورٹی ذرائع کے مطابق مشترکہ آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 67 ہو گئی، جبکہ 5 جولائی سے مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 105 مبینہ دہشت گرد مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

latest urdu news

سکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں جاری آپریشن شعبان کے دوران مزید تین مبینہ دہشت گرد ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔

مشترکہ کارروائی میں مزید تین ہلاکتوں کا دعویٰ

سکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ کارروائیوں میں مزید تین مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد آپریشن شعبان کے آغاز سے اب تک اس مخصوص آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 67 ہو گئی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 5 جولائی سے مختلف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 105 مبینہ دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

آپریشن میں مختلف ادارے شریک

حکام کے مطابق آپریشن شعبان میں پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کارروائیاں ان علاقوں میں کی جا رہی ہیں جہاں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

رانا ثناء اللہ: بلوچستان میں مشترکہ آپریشن جاری، دہشت گردی کا سیاسی مسائل سے کوئی تعلق نہیں

حکام کے مطابق آپریشن کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنا، سکیورٹی صورتحال کو مستحکم بنانا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

وزیر داخلہ کا فورسز کو خراجِ تحسین

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آپریشن شعبان میں حصہ لینے والی سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے افسران اور اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی مشترکہ کارروائیاں قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ افسران اور جوانوں نے بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گرد عناصر کے لیے پاکستان کی سرزمین پر کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کا سلسلہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جاری رہے گا، جبکہ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter