نئے ائیرفورس ون سے متعلق سکیورٹی رپورٹس پر ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی، نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کو سمن جاری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے صدارتی طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات کی خبروں کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا، جبکہ نیویارک ٹائمز کے چار صحافیوں کو عدالتی سمن جاری کیے گئے ہیں۔

latest urdu news

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ استعمال نئے ائیرفورس ون طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات پر شائع ہونے والی خبروں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے چار صحافیوں کو عدالتی سمن جاری کیے گئے ہیں اور انہیں گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہو کر گواہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا مقصد ان ذرائع کا تعین کرنا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔

چار صحافیوں کو عدالتی سمن

رپورٹس کے مطابق نیویارک ٹائمز کے چار صحافیوں کو باضابطہ عدالتی سمن جاری کیے گئے ہیں۔ ان سے گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہو کر سکیورٹی رپورٹس سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس معاملے پر امریکی محکمہ انصاف کا مؤقف ہے کہ تحقیقات کا مرکز صحافی نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر خفیہ معلومات افشا کیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات کا مقصد حساس سرکاری معلومات کے ممکنہ لیک ہونے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے۔

ایف بی آئی کو تحقیقات کی ذمہ داری

رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کی نگرانی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے سپرد کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کاش پٹیل نے تحقیقات کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس میں کئی گھنٹے گزارے اور متعلقہ حکام سے مشاورت کی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا امیگرینٹس کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز، ملازمتوں اور سہولیات تک رسائی محدود

اگرچہ حکام نے تحقیقات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ معاملہ امریکی قومی سلامتی اور حساس معلومات کے تحفظ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نئے ائیرفورس ون سے متعلق سکیورٹی خدشات

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں ترکیے میں منعقد ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے ائیرفورس ون طیارے کے ذریعے روانہ ہوئے تھے۔

بعد ازاں واپسی کے سفر کے دوران انہوں نے نئے طیارے کے بجائے پرانے ائیرفورس ون کا استعمال کیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ فیصلہ آخری لمحات میں امریکی خفیہ سروس کی سفارش پر کیا گیا، کیونکہ نئے طیارے میں بعض مخصوص سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق ٹیکنالوجی مکمل طور پر نصب نہیں تھی۔

خفیہ معلومات کے افشا کی تحقیقات

امریکی اخبار کے مطابق نئے صدارتی طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات کی خبریں منظرِ عام پر آنے کے بعد وفاقی حکام نے خفیہ معلومات کے افشا ہونے کی تحقیقات شروع کیں۔

محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ کارروائی کا مقصد صحافتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ان افراد کی نشاندہی کرنا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر حساس معلومات غیر مجاز طور پر میڈیا تک پہنچائیں۔ دوسری جانب اس معاملے نے قومی سلامتی، حکومتی شفافیت اور ذرائع کے تحفظ سے متعلق نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter