شاہزیب خانزادہ: غیر ملکی خواتین کے کیس میں صلح سے مقدمہ ختم نہیں ہو سکتا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سینئر صحافی شاہزیب خانزادہ نے کہا ہے کہ لاہور میں غیر ملکی خواتین سے متعلق مقدمے میں صلح یا رضامندی کی بنیاد پر کیس ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس نوعیت کے مقدمات میں ریاست خود مدعی کے طور پر کارروائی جاری رکھنے کی پابند ہوتی ہے۔

latest urdu news

ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ متاثرہ خواتین اور ملزمان کے درمیان ممکنہ صلح کے بعد مقدمہ ختم ہو سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق مقدمے میں شامل دفعات کے تحت ایسی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔ اگر متاثرہ فریق مقدمہ واپس لینا بھی چاہے یا ملزمان کو معاف کر دے، تب بھی ریاست قانون کے مطابق کیس کی پیروی جاری رکھتی ہے۔

شاہزیب خانزادہ نے مزید کہا کہ رضا ڈار کے خاندانی ذرائع کا مؤقف ہے کہ ان پر براہِ راست زیادتی کا الزام نہیں لگایا گیا، جبکہ متاثرہ خواتین کے بیانات میں بھی ان کا نام اس حوالے سے نہیں آیا۔

غیر ملکی خواتین کیس میں کسی کو رعایت نہیں ملے گی، قانون سب کے لیے برابر ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی

انہوں نے وضاحت کی کہ مقدمے میں دفعہ 375 اے شامل کی گئی ہے، جو مبینہ گینگ ریپ کے مقدمات سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق اس دفعہ کے تحت صرف وہ شخص ہی نہیں بلکہ جرم میں مبینہ طور پر شریک تمام افراد بھی قانونی طور پر ذمہ دار قرار دیے جا سکتے ہیں، چاہے ان پر براہِ راست زیادتی کا الزام نہ بھی ہو۔

واضح رہے کہ مقدمے سے متعلق الزامات کی حقیقت کا تعین عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگا، اور تمام ملزمان اس وقت تک قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter