لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کیس: پولیس نے متاثرہ خواتین کو بازیاب کرایا، ڈی آئی جی آپریشنز

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے کیس کے حوالے سے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ متاثرہ غیر ملکی خواتین کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں، جن میں انہوں نے بتایا ہے کہ انہیں پنجاب پولیس نے بازیاب کرایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر زیر گردش بعض دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات شواہد اور متاثرہ خواتین کے بیانات کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

latest urdu news

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کامران نے کیس کی تحقیقات اور پولیس کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی تردید

ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ غیر ملکی خواتین خود ہی جائے وقوعہ سے باہر آئیں، تاہم ان کے مطابق متاثرہ خواتین کے اپنے بیانات اس سے مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس موجود بیانات کے مطابق پنجاب پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خواتین کو بازیاب کرایا، جبکہ تحقیقات کے دوران دستیاب شواہد کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

سیف سٹی کیمروں اور ٹیکنالوجی سے ملزمان تک رسائی

فیصل کامران کے مطابق پولیس نے کیس کی تفتیش کے دوران سیف سٹی کیمروں کی مدد سے مشتبہ گاڑی کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی کی لوکیشن ٹریس کرنے کے بعد ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور شواہد کی مدد سے تفتیش کو آگے بڑھایا گیا تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا سکے۔

غیر ملکی خواتین کے مقدمے کو اسحاق ڈار سے جوڑنا درست نہیں، فیصل واوڈا ثبوت پیش کریں: رانا ثنا اللہ

سفارت خانے سے رابطہ اور متاثرہ خواتین کی روانگی

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ پولیس کو اس واقعے کی اطلاع متاثرہ غیر ملکی خاتون کے والد کی جانب سے ملی، جس کے بعد فوری کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ سفارت خانے کی خواہش تھی کہ متاثرہ خواتین کو جلد از جلد پاکستان سے روانہ کیا جائے، تاہم پولیس نے ان کے بیانات ریکارڈ کرنے اور میڈیکل معائنے کی تکمیل کے لیے ایک روز مزید قیام کی درخواست کی۔

فیصل کامران کے مطابق تمام قانونی اور طبی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متاثرہ خواتین کو بیرون ملک روانہ کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz نے ذاتی طور پر فون کر کے کیس میں میرٹ اور قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی شخص پر جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

فیصل کامران نے مزید بتایا کہ گرفتار تمام ملزمان کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس تمام شواہد، فرانزک رپورٹس اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں کارروائی مکمل کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تفتیش کو شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور عدالت میں دستیاب شواہد کی بنیاد پر مقدمے کی پیروی کی جائے گی۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter