اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے جوڑنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سینیٹر فیصل واوڈا کے پاس اس حوالے سے کوئی شواہد موجود ہیں تو وہ انہیں سامنے لائیں۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کو صرف خاندانی تعلق کی بنیاد پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر کسی فرد پر جرم ثابت ہوتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی اسی کے خلاف ہونی چاہیے، نہ کہ اس کے رشتہ داروں کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ غیر ملکی خواتین کی شکایت موصول ہوتے ہی پولیس نے فوری مقدمہ درج کیا، ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور متاثرین کے بیانات بھی عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے۔ اب یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور انصاف میرٹ پر فراہم کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کا بیان: امریکا اور چین دونوں سے بہترین تعلقات پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ہے
رانا ثنا اللہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حکومت اس مقدمے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ متاثرین کو مکمل انصاف ملے، جبکہ عدالت میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
