وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اہم ملاقات

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں امن، استحکام اور سفارتی پیش رفت کے حوالے سے عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔

latest urdu news

وزیراعظم شہباز شریف ان دنوں اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جہاں وہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کے مختلف مراحل میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود ہیں۔

امریکی وفد کی شرکت

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں امریکا کے اہم نمائندے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور جاری مذاکراتی عمل سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اگرچہ ملاقات کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اسے پاکستان اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی روابط کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی ملاقاتیں نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں بلکہ خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی تقویت دیتی ہیں۔

ایرانی وفد سے بھی ملاقات متوقع

ذرائع کے مطابق امریکی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ایرانی وفد سے بھی ملاقات کریں گے۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔

ایران۔امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

یہ ملاقاتیں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے اور مختلف فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ علاقائی تنازعات اور کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہیں۔ اسی پالیسی کے تحت پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کی حمایت کر رہا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی یہ ملاقاتیں اور مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات کے مستقبل کے لیے اہم ہیں بلکہ ان کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی برادری ان مذاکراتی سرگرمیوں کو غیرمعمولی اہمیت دے رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter