بھارت میں سونے کی اسمگلنگ کی ایک غیر معمولی کوشش اس وقت ناکام بنا دی گئی جب حکام نے ایک مسافر طیارے کے اسپیکر کے اندر چھپایا گیا تقریباً 3 کلوگرام سونا برآمد کر لیا۔ یہ واقعہ Ahmedabad Airport پر پیش آیا، جہاں کسٹم حکام معمول کی چیکنگ کے دوران ایک مشکوک کارروائی کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئے۔
دبئی سے آنے والی پرواز میں مشکوک سرگرمی
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سونا دبئی سے آنے والی ایک پرواز میں لایا گیا تھا جو IndiGo سے تعلق رکھتی تھی۔ حکام کے مطابق برآمد کیے گئے سونے کی مقدار تقریباً 2.8 کلوگرام تھی، جس کی مالیت 4 کروڑ بھارتی روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
اسمگلرز نے اس سونے کو انتہائی مہارت کے ساتھ طیارے کے اسپیکر سسٹم کے اندر چھپایا تھا، جسے عام معائنے میں پکڑنا تقریباً ناممکن نظر آتا تھا۔ سونے کو کالے ٹیپ میں لپیٹ کر اسپیکر کے اندر فٹ کیا گیا تھا تاکہ اسے چھپایا جا سکے۔
کسٹم حکام کی کارروائی اور انکشاف
کسٹم حکام کے مطابق یہ کارروائی معمول کی تلاشی کے دوران مشکوک نشاندہی کے بعد شروع کی گئی۔ بعد ازاں ایئر کرافٹ انجینئرز کی مدد سے اسپیکر سسٹم کو کھولا گیا، جس کے اندر سے سونا برآمد ہوا۔ حکام نے فوری طور پر اس سامان کو ضبط کر لیا اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں اسمگلرز جدید اور پیچیدہ طریقے استعمال کرتے ہیں تاکہ سیکیورٹی چیکنگ سے بچا جا سکے، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور سخت نگرانی کی وجہ سے ایسے زیادہ تر منصوبے ناکام بنا دیے جاتے ہیں۔
Gujarat | During the search conducted on IndiGo Flight No. 6E-1478 arriving from Dubai at SVPI Airport, Ahmedabad on 12.06.2026, Customs officials, with the help of Aircraft Engineers, seized two pouches wrapped in black plastic tape inside the speaker box located in the front… pic.twitter.com/rcn5s6KsSh
— ANI (@ANI) June 13, 2026
سونے کی اسمگلنگ اور بڑھتے رجحانات
خطے میں سونے کی اسمگلنگ کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک سے جنوبی ایشیا آنے والی پروازوں میں اس نوعیت کے کیسز زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکس پالیسیوں کے باعث بعض غیر قانونی گروہ اس طرح کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایئرپورٹس پر سیکیورٹی اور کسٹم چیکنگ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکا جا سکے۔
