اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے جائیداد، ریٹیل اشیاء اور لگژری مصنوعات پر ٹیکس نیٹ کو مزید سخت کرنے کے لیے نئے اقدامات متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے والے افراد کے لیے اپنے ذرائع آمدن ظاہر کرنا لازمی ہوگا۔ مجوزہ قانون کے تحت آمدن کے واضح ثبوت کے بغیر اتنی بڑی مالیت کی پراپرٹی کی خریداری ممکن نہیں ہوگی، جبکہ یہ شرط یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہونے کی تجویز ہے۔
دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پراپرٹی کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز پر اضافی ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رکھنے کی تجویز شامل ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
پیپلز پارٹی کا بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی خبروں کی تردید، اجلاس میں شرکت کا اعلان
مزید برآں، ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی اشیاء جیسے جیمز، فروٹ جوسز اور دیگر مشروبات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
ادھر لگژری گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، تاہم حکومت نے سولر پینلز پر کسی نئے ٹیکس کے نفاذ سے گریز کیا ہے تاکہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی پالیسی جاری رکھی جا سکے۔
