انگلینڈ میں نوجوان کی ہلاکت پر ہنگامے، احتجاجی مظاہروں کے دوران 11 پولیس اہلکار زخمی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن: انگلینڈ میں 18 سالہ سفید فام نوجوان ہینری نوواک کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے شدت اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں 11 پولیس افسران زخمی جبکہ تقریباً 100 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

latest urdu news

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہوں اور حامیوں نے ہینری نوواک کی موت کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں، جس کے باعث متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔

برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہینری نوواک کی گرفتاری کی ویڈیو دیکھی ہے، جو انتہائی پریشان کن اور خوفناک محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انڈیپنڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔

انگلینڈ اور ویلز میں پولیس اصلاحات: شبانہ محمود کا نیا منصوبہ

کئیر اسٹارمر نے مزید کہا کہ اس واقعے کے تناظر میں سامنے آنے والے نسل پرستی سے متعلق الزامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ تمام حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

دوسری جانب ہیمپشائر اینڈ آئل آف وائٹ پولیس کے چیف کانسٹیبل الیکسز بون نے ہینری نوواک کی گرفتاری کے دوران پیش آنے والے واقعات پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ گرفتاری کے وقت نوجوان کو ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں جبکہ وہ بار بار سانس لینے میں دشواری کی شکایت کرتا رہا تھا۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter