ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند نہ کیں تو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی رابطے اور مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی امور سے وابستہ رہنما باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور عوامی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیاد ایران کے بنیادی مفادات کا تحفظ ہوگی۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے کہا کہ لبنان اور غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مزاحمتی گروہوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان پر حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی افواج کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دفاع اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران سے معاہدے میں جلد بازی نہیں ہوگی، مذاکرات درست انداز میں مکمل ہونے چاہئیں: ٹرمپ
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر Donald Trump نے حال ہی میں امید ظاہر کی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ ہفتے کے دوران کسی ممکنہ معاہدے پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔
