مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ امن و امان کی صورتحال، سیاسی حالات اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دو صوبے بدامنی کا مرکز بن چکے ہیں اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ حکومت مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز عوام تک پہنچنے نہیں دی جا رہی۔ ان کے بقول وہ ایسے ماحول میں گفتگو کر رہے ہیں جہاں خونریزی اور بے چینی نے عوام کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے اپنی جماعت کے کارکنوں اور رہنماؤں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف بھاری قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری آپریشنز کے باوجود حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئے ہیں۔
انہوں نے پاک بھارت کشیدگی اور عالمی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ بھارت کے خلاف حالیہ کشیدگی میں پاکستانی فوج نے مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں جبکہ پاکستان کے اندر عوامی مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مہنگائی، تیل کی قیمتوں اور پارلیمنٹ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق عوام معاشی دباؤ اور بدامنی دونوں کا شکار ہیں، جبکہ اہم فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے دیگر مراکز میں کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان نے عالمی معاملات سلجھانے کی صلاحیت ثابت کر دی، مولانا فضل الرحمان
خطاب کے دوران انہوں نے اٹھارویں ترمیم، آئینی معاملات اور جمہوری نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ رفتہ رفتہ ایک رسمی ادارہ بنتی جا رہی ہے اور جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے خیبرپختونخوا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں اور کئی علاقوں میں حکومتی رٹ دکھائی نہیں دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی تو پھر اس کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے اپوزیشن کو متحد رہنے کی تلقین کی اور قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کی تجویز بھی پیش کی۔
