پاکستان میں پاسپورٹ اور امیگریشن کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت پورے عمل کو مرحلہ وار ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو تیز، شفاف اور مؤثر خدمات فراہم کرنا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں نظام کو اپ گریڈ کرنے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ بدعنوانی اور تاخیر جیسے مسائل پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق پاسپورٹ اور امیگریشن کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ اس تبدیلی سے شہریوں کو درخواست جمع کرانے، معلومات حاصل کرنے اور دیگر ضروری امور کے لیے دفاتر کے چکر کم لگانے پڑیں گے۔
خواتین اب پاسپورٹ پرخاوند کے ساتھ والد کا نام بھی لکھوا سکیں گی
اس منصوبے کا ایک اہم حصہ جدید ڈیجیٹل کمپلینٹ سینٹر کا قیام بھی ہے، جہاں عوام اپنی شکایات اور مسائل آن لائن ایپ کے ذریعے درج کر سکیں گے۔ یہ نظام چوبیس گھنٹے فعال رہے گا، جس سے شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹلائزیشن کے نتیجے میں نہ صرف سروس ڈیلیوری میں بہتری آئے گی بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور انہیں بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔
