وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے نئی تجاویز ایران کو بھجوا دی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سفارتی کوششیں خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازع کے باعث پاکستان کی معیشت پر شدید دباؤ پڑا ہے، خصوصاً تیل کی درآمدی لاگت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے مطابق ملک کا ہفتہ وار تیل کا بل تقریباً 167 فیصد بڑھ کر 30 کروڑ ڈالر سے 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی تجاویز پر مشاورت کے بعد جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے تیل کی بچت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں کھپت میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملکی سطح پر بھی نئی قیمتوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
روس کی ثالثی کی پیشکش، ایران-امریکا کم کرنے کے لیے سرگرم رابطے
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وزیر پٹرولیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں تیل کی فراہمی کا نظام مستحکم رہا اور کسی قسم کی افراتفری دیکھنے میں نہیں آئی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹرانسپورٹ اور زراعت سمیت اہم شعبوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری حکمت عملی تیار کریں۔
