امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا بنیادی مقصد امریکا کے وجود اور سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے یہ بات کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی میں پیشی کے دوران کہی۔
اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف دو ٹوک ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق امریکی افواج کو اسی مقصد کے تحت مضبوط اور جدید بنایا گیا ہے تاکہ قومی مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جا سکے۔
پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ حکومت نے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچایا، جس کے ذریعے نہ صرف فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ محکمہ دفاع میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو دو ماہ ہو چکے ہیں اور اسے امریکا کی بقا کی جنگ قرار دیا۔ ان کے مطابق موجودہ قیادت نے قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے۔
ایران جنگ: 13 امریکی اہلکار ہلاک، 365 زخمی پینٹاگون کی رپورٹ جاری
دوسری جانب امریکی فوجی قیادت سے تعلق رکھنے والے جنرل ڈین کین نے بھی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران اہم اہداف کامیابی سے حاصل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی افواج کو مزید جدید اور مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ اسٹریٹجک برتری برقرار رکھی جا سکے۔
