اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ایسے اقدامات کیے جن کے نتیجے میں ایک بڑی عالمی جنگ کو ٹالنے میں کردار ادا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی اتنی اہم ہے کہ صدی بھر کی سفارتکاری بھی شاید ایسا نتیجہ نہ دے پاتی۔
سفارتی کامیابی کا دعویٰ
قومی ادارہ برائے صحت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر مثبت پہچان ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے تیسری عالمی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا ہے”، اور اس پیش رفت کو غیر معمولی سفارتی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے گرین پاسپورٹ کو بھی اب بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی مل رہی ہے، جو ملک کی بہتر ہوتی ساکھ کی علامت ہے۔
ایچ آئی وی سے متعلق صورتحال
پریس کانفرنس میں وزیر صحت نے ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال پر بھی تفصیلی بات کی۔ ان کے مطابق تونسہ میں رواں سال کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ اسلام آباد میں بھی کسی بڑے آؤٹ بریک کی تصدیق نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 210 کا تعلق اسلام آباد سے ہے، جبکہ باقی مریض دیگر علاقوں سے علاج کے لیے دارالحکومت آتے ہیں۔
فنڈنگ اور انتظامی امور
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ کی جانب سے 2024 سے 2026 تک 65 ملین ڈالر کی مالی امداد فراہم کی گئی۔ تاہم ان کے مطابق اس میں سے بڑی رقم این جی اوز اور دیگر اداروں کے پاس ہے، جس پر حکومتی سطح پر براہ راست نگرانی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی درخواست؟ ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ
علاج اور اسکریننگ کی سہولیات
وزیر صحت کے مطابق 2020 تک ملک میں 49 اے آر ٹی (ART) سینٹرز تھے، جو اب بڑھ کر 97 ہو چکے ہیں۔ ان مراکز میں لاکھوں افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جن میں ہزاروں کیسز مثبت آئے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً 84 ہزار ایچ آئی وی کیسز رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 61 ہزار افراد کا علاج جاری ہے، جبکہ تقریباً 24 ہزار مریض فالو اپ سے باہر ہیں۔
طبی اصلاحات اور اقدامات
مصطفیٰ کمال نے صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرنجز کے استعمال پر بھی نئی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے 3 سی سی سرنج پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اب 10 سی سی سرنج پر بھی پابندی کی منظوری دی جا چکی ہے، جسے جلد کابینہ سے حتمی منظوری ملنے کی توقع ہے۔
وزیر صحت کے مطابق پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صحت کے نظام کو ترجیح نہ دی گئی تو ملک کو مستقبل میں مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
