وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے پر پاکستان کا واضح اور دوٹوک مؤقف سفارتی سطح پر ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی اور سفارتی صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو بھی مضبوط بنایا۔
پاکستان کا مؤقف اور سفارتی حکمتِ عملی
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے کاکول میں ایک اہم موقع پر پہلگام واقعے پر اپنا واضح مؤقف پیش کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے اس واقعے کو ایک افسوسناک سانحہ قرار دیتے ہوئے بلیم گیم کے بجائے غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف سفارتی محاذ پر ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا، جس کے بعد صورتحال میں توازن پیدا ہوا۔
بھارت کے الزامات اور پاکستان کا ردعمل
وفاقی وزیر کے مطابق بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد تھے، جن کا پاکستان نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے حقائق کو اجاگر کیا، جس کے بعد کئی بین الاقوامی حلقوں نے پاکستانی مؤقف کو تسلیم کیا یا اس پر غور کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے تحقیقات کے مطالبے کے بعد بھارت کو سفارتی سطح پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
پہلگام واقعہ: ایک سال بعد بھی بھارت سوالات کے جواب دینے میں ناکام، آئی ایس پی آر کا مؤقف
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک مضبوط کردار ادا کر رہا ہے اور اس میں بھاری قربانیاں دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق افواج پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض دہشت گرد گروہوں کے روابط خطے سے باہر بھی موجود ہیں، تاہم پاکستان نے ہمیشہ امن اور استحکام کو ترجیح دی ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر زیادہ واضح ہوا ہے اور ملک کو سفارتی سطح پر مزید پذیرائی ملی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے بھی اپنے خطاب میں پاکستان کے وقار، عزت اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد اور حوصلہ بھی اس مؤقف کے بعد مزید مضبوط ہوا ہے۔
مجموعی صورتحال
عطا تارڑ کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نے نہ صرف سفارتی محاذ پر مؤثر حکمت عملی اپنائی بلکہ عالمی بیانیے میں اپنی جگہ بھی بہتر بنائی ہے۔ تاہم خطے میں دیرپا امن کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات اور شفاف تحقیقات کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔
