امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، اور سابق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ محمد البرادعی نے عالمی رہنماؤں سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔
ٹرمپ کی 48 گھنٹے کی ڈیڈلائن
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ ایران کے پاس 48 گھنٹے ہیں کہ وہ یا تو کوئی معاہدہ کرے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔ ٹرمپ نے اس سلسلے میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بھی پیغام دیا، اور گزشتہ دہائی کے ایران کے حوالے سے اپنے سابقہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو پہلے بھی معاہدے یا خطرناک اقدامات کے لیے 10 دن دیے گئے تھے۔
محمد البرادعی کی شدید تشویش
سابق IAEA سربراہ محمد البرادعی نے ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور بین الاقوامی برادری سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ البرادعی نے کہا:
"کیا ٹرمپ کے اس ممکنہ پاگل پن کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا؟”
انہوں نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیریس، یورپی کونسل، فرانس، چین اور روس سے بھی اپیل کی کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے سے پہلے قابو پایا جا سکے۔
طیارہ گرنے کے باوجود ایران سے مذاکرات جاری رہیں گے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
بین الاقوامی برادری کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت
محمد البرادعی کے مطابق خطے میں کسی بھی غیر محتاط اقدام کے نتیجے میں خلیج اور آبنائے ہرمز میں تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک کی حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں تاکہ ایران کے ساتھ کسی بھی بحران کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
نتیجہ اور تشویش
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اگر ٹرمپ کی دھمکیوں پر فوری اور مؤثر عالمی ردعمل نہ دیا گیا تو خلیج اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس صورتحال میں عالمی سطح پر سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ خطے کو آگ کے گولے میں بدلنے سے بچایا جا سکے۔
