ایران سے جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے باعث United Kingdom کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ London سے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ماہر اقتصادیات James Smith کا کہنا ہے کہ اگر جنگ تین ماہ تک جاری رہی تو ادارے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے لیے ملازمین کو چھٹیاں دینے یا اخراجات کم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں نئی بھرتیوں کا عمل بھی سست یا مکمل طور پر رک سکتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع مزید کم ہو جائیں گے۔
برطانیہ نے امریکا کو ایران کیخلاف اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح پہلے ہی 5.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو گزشتہ پانچ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو یہ شرح بڑھ کر 5.5 فیصد تک جا سکتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں سال شرح سود میں کمی کی توقعات تھیں، جس سے معیشت کو سہارا مل سکتا تھا، تاہم موجودہ حالات میں یہ امکانات کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
