ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 1.15 امریکی ڈالر کے برابر ہو گئی ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 1.03 ڈالر ہے، جبکہ سری لنکا اور بنگلادیش میں یہ قیمت بالترتیب 94 سینٹ اور 95 سینٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
حالیہ اضافہ اور اس کے اسباب
حکومت نے حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 55 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ملک میں پیٹرول 321 روپے 17 پیسے اور ڈیزل 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، خطے میں سیاسی کشیدگی، اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی اس مہنگائی کے پیچھے بنیادی عوامل ہیں۔ ان اضافوں کا سب سے زیادہ اثر شہریوں کی روزمرہ کی زندگی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر پڑ رہا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں فرق
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت خطے میں سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے عوام پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بھارت، سری لنکا اور بنگلادیش میں فی لیٹر قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے وہاں کے صارفین کو نسبتاً ریلیف حاصل ہے، جبکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی قیمتیں ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں عوام کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو نہ صرف قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پالیسی ریفارمز کی بھی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر یہ اضافہ روزمرہ اخراجات میں براہِ راست اضافہ کر رہا ہے، جس سے صارفین کی قوت خرید متاثر ہو رہی ہے۔
