جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل: پی آئی اے کو پانچ برس میں 200 ارب روپے کا نقصان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران انکشاف کیا گیا کہ جعلی پائلٹ لائسنس معاملے کے باعث قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو گزشتہ پانچ برسوں میں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ وزارت دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے تحریری جواب کے مطابق اگست 2020 سے دسمبر 2024 تک قومی ایئرلائن کو تقریباً 200 ارب روپے کے متوقع ریونیو سے محروم ہونا پڑا۔

latest urdu news

جعلی لائسنس معاملہ اور مالی اثرات

یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا تھا جب بعض پائلٹس کے لائسنسوں کی تصدیق پر سوالات اٹھے۔ اس پیش رفت کے بعد کئی بین الاقوامی فضائی اداروں اور ممالک نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر پی آئی اے کی پروازوں پر پابندیاں عائد کیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں قومی ایئرلائن کی یورپ سمیت مختلف منافع بخش روٹس تک رسائی محدود ہوگئی، جس سے آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

وزارت دفاع کے مطابق پانچ سال کے عرصے میں اندازاً 200 ارب روپے کے ممکنہ ریونیو کا نقصان ہوا، جو پی آئی اے کی مالی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنا۔ واضح رہے کہ قومی ایئرلائن پہلے ہی خسارے کا سامنا کر رہی تھی، اور اس اسکینڈل نے اس کی مالی بحالی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

بلوچستان کے ایئرپورٹس کی صورتحال

سینیٹ کے وقفہ سوالات کے دوران بلوچستان میں ایئرپورٹس کی غیر فعالیت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ بلوچستان کے سینیٹرز نے بعض ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن نہ ہونے پر احتجاج کیا۔ وزارت دفاع کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 11 ایئرپورٹس موجود ہیں، تاہم ان میں سے صرف تین — کوئٹہ، گوادر اور تربت — اس وقت فعال ہیں۔

عارف حبیب گروپ کا پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد حصص خریدنے کا اعلان

حکام کے مطابق دالبندین ایئرپورٹ پر رن وے موجود نہیں، جبکہ ژوب، پسنی اور پنجگور ایئرپورٹس تکنیکی طور پر آپریشنل ہیں لیکن پروازیں نہ ہونے کے باعث عملی طور پر بند ہیں۔ اسی طرح خضدار اور سبی ایئرپورٹس پر بھی فلائٹ آپریشن معطل ہے۔ اوماڑہ اور جیوانی ایئرپورٹس 2004 سے بند ہیں اور 2005 سے پاکستان نیوی مفاہمتی یادداشت کے تحت ان کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔

کمرشل پروازوں کی معاشی عملداری

وزیر مملکت شزرہ منصب نے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان میں کمرشل پروازیں معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں کیونکہ مسافروں کی تعداد محدود ہے۔ ان کے بیان پر بعض سینیٹرز نے احتجاج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ صوبے کو فضائی رابطوں سے محروم رکھنا مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

بعد ازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تجویز دی کہ سینیٹرز کی پی آئی اے انتظامیہ سے ملاقات کرائی جائے تاکہ بلوچستان کے لیے پروازوں کے مسئلے کا قابلِ عمل حل تلاش کیا جا سکے۔

مجموعی طور پر اجلاس میں قومی ایئرلائن کی مالی حالت اور صوبائی فضائی سہولیات دونوں پر سنجیدہ گفتگو کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف معاشی بلکہ انتظامی اور علاقائی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter