واشنگٹن/کوپن ہیگن: امریکا کی جانب سے بار بار گرین لینڈ خریدنے کی خواہش کے باوجود امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ہونے والا اعلیٰ سطح سہ فریقی اجلاس کسی ٹھوس پیش رفت کے بغیر ختم ہو گیا۔ اجلاس ناکامی کے فوراً بعد ڈنمارک نے نیٹو اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں فوجی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا، جسے بین الاقوامی سطح پر امریکا کی جانب سے گرین لینڈ پر دعوے کے تناظر میں طاقت کا مظاہرہ سمجھا جا رہا ہے۔
ڈنمارک کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ “آپریشن آرکٹک اینڈیورنس” کے تحت گرین لینڈ اور اس کے گرد و نواح میں فوجی موجودگی مضبوط کی جا رہی ہے۔ اس آپریشن میں جرمنی، فرانس، ناروے اور سویڈن سمیت کئی نیٹو ممالک حصہ لے رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اس اقدام کا مقصد آرکٹک خطے میں دفاعی صلاحیت بڑھانا، اہم انفراسٹرکچر کا تحفظ، مقامی خودمختار حکومت کی معاونت اور فضائی و بحری آپریشنز کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فوجی سرگرمی امریکا کے دعووں کے مقابلے میں ڈنمارک کی جانب سے طاقت کا عملی مظاہرہ ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن اور گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹسفیلڈ سے ملاقات کی، جس میں گرین لینڈ کی سلامتی اور تعاون پر بات چیت ہوئی۔ تاہم خودمختاری کے معاملے پر شدید اختلافات برقرار رہے۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے کہا کہ گرین لینڈ کی خودمختاری “سرخ لکیر” ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ گرین لینڈ کی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعاون خوش آئند ہے، لیکن گرین لینڈ امریکا کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
ڈنمارک کی وزیراعظم کا ٹرمپ سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں بند کرنے کا مطالبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کے باوجود اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ گرین لینڈ امریکا کے نئے میزائل دفاعی نظام “گولڈن ڈوم” کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکا ہر ممکنہ آپشن پر غور کر سکتا ہے۔
سفارتی اور عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ ان بیانات اور فوجی اقدامات کے بعد یورپ اور امریکا کے درمیان گرین لینڈ کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جس سے آرکٹک خطے میں سلامتی اور سیاسی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔
