گرین لینڈ: گرین لینڈ کے معروف ایلولیساٹ آئس فیورڈ میں ایک دیوہیکل برفانی تودہ اچانک ٹوٹ کر سمندر میں جا گرا، جس سے بلند و بالا لہریں اٹھیں اور قریبی کشتیوں میں موجود افراد خوفزدہ ہو گئے۔ اس حیران کن واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جولائی میں گرین لینڈ کے علاقے اواناٹا میں پیش آیا، جہاں موجود سیاحوں اور مقامی افراد نے برفانی تودے کے ٹوٹنے اور سمندر میں گرنے کا منظر اپنے کیمروں میں محفوظ کر لیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی برف کا عظیم الشان حصہ پانی میں گرتا ہے، زور دار لہریں تیزی سے قریبی کشتی کی جانب بڑھتی ہیں، جس پر سوار افراد فوری طور پر محفوظ فاصلے پر منتقل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم چند روز بعد اسی مقام سے ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک بڑا آئس برگ اچانک الٹ جاتا ہے اور اس کا زیرِ آب حصہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس دوران پانی میں شدید ارتعاش، دھند اور بلند لہریں پیدا ہوئیں، جنہوں نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔
گرین لینڈ معاملے پر کینیڈا نے امریکا کے ممکنہ ٹیرف کو ناقابل قبول قرار دے دیا
ایلولیساٹ آئس فیورڈ گرین لینڈ کے مغربی ساحل پر واقع ایک عالمی شہرت یافتہ مقام ہے، جسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دے چکا ہے۔ یہ علاقہ دنیا کے تیز رفتار گلیشیئرز میں شمار ہونے والے سرمق کجالیک سے منسلک ہے، جہاں ہر سال کروڑوں ٹن برف سمندر میں شامل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق برفانی تودوں کا ٹوٹنا اور الٹنا ایک قدرتی عمل ہے، لیکن جب بہت بڑے آئس برگ اچانک سمندر میں گرتے ہیں تو ان سے پیدا ہونے والی طاقتور لہریں قریبی کشتیوں اور سیاحوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ماہرین گلیشیئرز اور بڑے برفانی تودوں سے مناسب حفاظتی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہیں۔

