برطانوی ماہرِ ارضیات: ایران کی نئی زیرِ زمین ایٹمی تنصیب انتہائی مضبوط، روایتی بموں سے تباہ کرنا مشکل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور: ایران کے نئے زیرِ زمین ایٹمی مرکز سے متعلق ایک برطانوی ماہرِ ارضیات نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دنیا کی مضبوط ترین جوہری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی قدرتی ساخت اسے انتہائی محفوظ بناتی ہے۔

latest urdu news

امریکی جریدے سائنٹفک امریکن میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ ارضیات پروفیسر رچرڈ والکر کا کہنا ہے کہ ایران نے کوہ کلنگ گزلا کے نیچے قائم اپنی نئی ایٹمی تنصیب ایسی چٹانوں میں تعمیر کی ہے جو غیر معمولی مضبوطی رکھتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس پہاڑ کی بنیاد اینڈیسائٹ (Andesite) نامی آتش فشانی چٹان پر مشتمل ہے، جسے سخت ترین قدرتی پتھروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی مضبوط ارضیاتی ساخت زیرِ زمین سرنگوں کو اضافی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

پروفیسر والکر کے مطابق اگرچہ امریکا کے پاس زیرِ زمین اہداف کو نشانہ بنانے والے انتہائی طاقتور بم موجود ہیں، تاہم ان کے بقول یہ ہتھیار بھی اس پہاڑ کے اندر موجود گہری سرنگوں تک مکمل طور پر رسائی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کر سکتے ہیں۔

ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے بعد تہران کا یوکرین سے احتجاج، ناظم الامور طلب

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اس مقام پر تقریباً 362 فٹ گہرائی میں سرنگیں تعمیر کی ہیں، جہاں جدید سینٹری فیوجز اور ممکنہ طور پر افزودہ یورینیم محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter