امریکی صدر Donald Trump نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کی ایران پالیسی کا موازنہ سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کے ادوار سے کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
انہوں نے اپنے پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر مختلف پوسٹس کے ذریعے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر شیئر کیں، جن میں ایران سے متعلق عسکری منظرنامے اور امریکی کارروائیوں کو دکھایا گیا ہے۔
AI تصاویر میں کیا دکھایا گیا؟
ٹرمپ کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ:
- سابق صدور اوباما اور بائیڈن کے ادوار میں ایرانی بحری جہاز کھلے سمندر میں آزادانہ طور پر موجود تھے
- جبکہ ان کے دور میں بڑی تعداد میں جہازوں کو نشانہ بنایا گیا
ایک تصویر میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ مبینہ طور پر 159 جہازوں کو سمندر کی تہہ میں پہنچا دیا گیا۔
ایران کی فوجی طاقت کمزور ہو چکی، اب تہران کے ردعمل کا انتظار ہے: ٹرمپ
ڈرونز کے خلاف کارروائی کا تصور
ایک دوسری تصویر میں ایک امریکی جنگی جہاز کو دکھایا گیا ہے جس سے لیزر شعاعیں خارج ہو رہی ہیں اور وہ فضائی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس تصویر پر “Goodbye Drones” یعنی “الوداع ڈرونز” کا متن درج تھا۔
اس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ امریکی دفاعی نظام نے ایران کے ڈرون پروگرام کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔
سیاسی پیغام اور موازنہ
ٹرمپ کی ان پوسٹس کا بنیادی مقصد ان کے مطابق یہ دکھانا تھا کہ ان کی خارجہ پالیسی سابقہ انتظامیہ کے مقابلے میں زیادہ سخت اور مؤثر رہی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جارحانہ یا علامتی مواد استعمال کیا ہو۔ ان کی جانب سے اس طرح کے بیانات اکثر سیاسی مباحث اور میڈیا توجہ کا باعث بنتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کچھ صارفین نے اسے سیاسی تشہیر اور بیانیے کی جنگ قرار دیا، جبکہ دیگر نے مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ایسی تصاویر کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔
ٹرمپ کی یہ تازہ پوسٹس ایک بار پھر امریکی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی کے بیانیے میں موجود اختلافات کو نمایاں کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے ڈیجیٹل اور AI مواد کا استعمال سیاسی پیغام رسانی میں ایک نیا رجحان بن رہا ہے، جو عوامی رائے پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
