وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: صدر ٹرمپ محفوظ، واقعے کو ایران تنازع سے الگ قرار دے دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن میں ہفتے کی شب وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران ایک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی تقریب میں موجود تھے۔ تاہم فوری سکیورٹی اقدامات کے باعث صدر اور دیگر شرکاء محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص نے سکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب سے حملے کی کوشش کی، جسے بروقت ناکام بنا دیا گیا۔

latest urdu news

صدر ٹرمپ کا ردعمل

واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ حملہ آور تقریباً 15 گز کے فاصلے سے فائرنگ کی کوشش کر رہا تھا اور بظاہر اس کا نشانہ درست سمت میں تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کے خیال میں اس حملے کا ایران کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ یا بین الاقوامی کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں۔

صدر نے مزید کہا کہ مشتبہ شخص کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے اور سکیورٹی اداروں، خصوصاً سیکریٹ سروس، نے نہایت تیزی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کارروائی کی، جس سے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔

سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی

صدر ٹرمپ کے مطابق، فائرنگ کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا، تاہم وہ بلٹ پروف جیکٹ پہننے کی وجہ سے محفوظ رہا۔ انہوں نے اس اہلکار سے خود بات کرنے کا بھی ذکر کیا اور سکیورٹی فورسز کی جرات اور مستعدی کو سراہا۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ حملہ آور کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ہے۔ حکام کے مطابق تفتیش جاری ہے اور جلد یہ واضح کر لیا جائے گا کہ آیا اس حملے میں کوئی اور شخص بھی ملوث تھا یا نہیں۔

عینی مشاہدات اور ماحول

صدر ٹرمپ نے واقعے کے لمحے کو "انتہائی حیران کن” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اچانک برتن گرنے جیسی تیز آوازیں سنائی دیں، جس پر وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے فوراً اس آواز کو خطرناک قرار دیا، جس کے بعد سکیورٹی مزید متحرک ہو گئی۔

سیاسی پیغام اور آئندہ کا لائحہ عمل

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ریپبلکنز کو نشانہ بنایا گیا ہو، تاہم ایسے واقعات کے باوجود قومی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

صدر نے اعلان کیا کہ آئندہ 30 دنوں میں اس سے بھی بڑی تقریب منعقد کی جائے گی اور اس واقعے کے باعث کسی بھی سرکاری یا عوامی پروگرام کو منسوخ نہیں کیا جائے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter