امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں پر عائد ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے، جس کے بعد وہاں رکے ہوئے تجارتی اور دیگر جہاز اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہو سکیں گے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق باقی ماندہ افزودہ یورینیم اور جوہری مواد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ ان کے مطابق یہ عمل ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا اور بعد ازاں اس مواد کو تلف کر دیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیا کہ ایران کو اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ مستقبل میں کبھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم تیار نہیں کرے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر عالمی بحری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے اور جہازوں کی نقل و حرکت پر کسی قسم کی رکاوٹ یا اضافی پابندی نہ ہو۔
امریکی صدر کے مطابق سمندری راستوں میں موجود متعدد بارودی سرنگیں امریکی بحریہ کے خصوصی مائن سویپرز کے ذریعے ناکارہ بنائی جا چکی ہیں، جبکہ باقی ماندہ رکاوٹوں کو بھی جلد ختم کر دیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی جہاز رانی معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔
آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے باوجود قطر سے ایل این جی لانے والا دوسرا جہاز کراچی پہنچ گیا
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران سے متعلق آئندہ اقدامات اور ممکنہ فیصلوں پر غور کے لیے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی سکیورٹی سے متعلق تمام فیصلے امریکی مفادات اور عالمی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
