ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ حقیقی اور مکمل جنگ بندی اسی وقت قابلِ قبول ہو سکتی ہے جب سمندری ناکہ بندی ختم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بحری پابندیاں برقرار رہیں تو جنگ بندی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
اپنے بیان میں قالیباف نے زور دیا کہ جنگ بندی کا مقصد صرف فوجی کارروائیاں روکنا نہیں بلکہ ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ بھی ہے جو عالمی تجارت اور معیشت کو متاثر کریں۔ ان کے مطابق سمندری ناکہ بندی دراصل عالمی نظام کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ایران سخت مؤقف اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
قالیباف کا طنز، ٹرمپ کو پیٹرول قیمت پر سخت جواب
قالیباف نے مزید کہا کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس پر مکمل عملدرآمد ہو، بصورت دیگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
