وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، باہمی تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے نام خصوصی پیغام بھی عباس عراقچی کے سپرد کیا۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی، سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان و ایران کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
خصوصی پیغام کی حوالگی
ملاقات کے دوران محسن نقوی نے پاکستانی قیادت کا خصوصی پیغام ایرانی وزیر خارجہ کے حوالے کیا، جو ایرانی سپریم لیڈر تک پہنچایا جائے گا۔ اگرچہ پیغام کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم ذرائع کے مطابق اس میں خطے کی حالیہ صورتحال اور پاکستان کے مؤقف سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔
محسن نقوی نے اپنے دورۂ ایران کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی روابط کے فروغ کا خواہاں ہے اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت کو ضروری سمجھتا ہے۔
ایرانی ہم منصب سے بھی ملاقات
یاد رہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی گزشتہ روز ایران پہنچے تھے، جہاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں علاقائی سلامتی، سرحدی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں عباس عراقچی سے اہم ملاقات
دونوں وزرائے داخلہ نے خطے میں سیکیورٹی چیلنجز اور سرحدی انتظام کے حوالے سے تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں دوطرفہ روابط کے فروغ اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات کی اہمیت
پاکستان اور ایران نہ صرف ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط بھی رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرحدی تعاون، توانائی اور سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
عرب میڈیا کے ذرائع کے مطابق محسن نقوی کے دورے کے دوران بعض اہم امور پر مفاہمتی یادداشتوں اور تعاون کے نئے طریقہ کار پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ علاقائی حالات میں پاکستان اور ایران کے درمیان مسلسل سفارتی رابطے خطے میں استحکام، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
