پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے ایک بار پھر ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک کا آغاز 5 اگست کو عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم، پشاور میں ایک بڑے جلسے سے کیا جائے گا، جبکہ ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں عمران خان کی رہائی کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی نے عمران خان کی رہائی کے لیے تمام قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے، تاہم انہیں اب بھی ناحق قید میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور پی ٹی آئی اسی حق کے تحت عوامی تحریک شروع کر رہی ہے۔
انہوں نے گزشتہ اسلام آباد احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی کارکنوں پر تشدد کیا گیا، فائرنگ کے واقعات پیش آئے اور متعدد کارکن جاں بحق و زخمی ہوئے، جبکہ انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کے باوجود درخواستیں مؤثر سماعت کے بغیر مسترد کر دی گئیں۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق 5 اگست کو عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہو جائیں گے، اسی مناسبت سے پشاور جلسے کے ذریعے احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جلسے میں آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔
کے پی حکومت کا وفاقی گرانٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کرنے کا فیصلہ
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ پشاور میں ہونے والا جلسہ پی ٹی آئی کی احتجاجی مہم کا نقطۂ آغاز ہوگا، جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عمران خان کو بنیادی قیدی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے اور ان سے ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کی آزادی حاصل ہے اور جلسے کے انعقاد کے دوران عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔
