پسند کی شادی پر بیٹی کا قتل، پولیس اسٹیشن میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں پسند کی شادی کرنے پر ایک باپ نے مبینہ طور پر اپنی ہی بیٹی کو پولیس اسٹیشن کے اندر قتل کر دیا۔ یہ واقعہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع Banda District میں پیش آیا، جس نے پورے علاقے میں خوف اور غم کی فضا پیدا کر دی ہے۔

latest urdu news

پسند کی شادی اور خاندان کا تنازع

رپورٹس کے مطابق 19 سالہ شیوانی نے اپنے پڑوسی للت ورما کے ساتھ 18 مئی کو ایک مندر میں پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد انہوں نے قانونی طور پر اپنی شادی کو رجسٹر بھی کرایا۔ بعد ازاں لڑکے کے خاندان کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کرائی گئی، جس پر پولیس نے کارروائی شروع کی۔

پولیس کے مطابق دونوں نوجوانوں کو بعد میں خفیہ اطلاع پر مدھیہ پردیش سے حراست میں لیا گیا۔ دورانِ تفتیش جوڑے نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی مرضی اور رضامندی سے شادی کی ہے، اور اس کے قانونی دستاویزات بھی پیش کیے۔

پولیس اسٹیشن میں افسوسناک واقعہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب پولیس شیوانی کا طبی معائنہ اور بیان ریکارڈ کرنے کی تیاری کر رہی تھی، اسی دوران دونوں خاندان پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ وہاں کونسلنگ کے دوران لڑکی کے والد نے اسے گھر واپس آنے پر زور دیا، تاہم شیوانی نے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔

اسی کشیدہ صورتحال کے دوران اچانک لڑکی کے والد نے مبینہ طور پر چاقو سے اپنی بیٹی پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی۔ بعد ازاں اسے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

طیارے کے اسپیکر میں چھپایا گیا سونا پکڑا گیا، اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام

پولیس کارروائی اور تحقیقات

واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کے والد کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سیکیورٹی کے باوجود پولیس اسٹیشن کے اندر یہ حملہ کیسے ممکن ہوا۔

سماجی پہلو اور بڑھتے خدشات

یہ واقعہ ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں پسند کی شادیوں کے حوالے سے موجود سماجی کشیدگی اور خاندانی دباؤ کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف قانونی نظام بلکہ سماجی رویوں میں موجود گہری پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں ذاتی آزادی اور روایتی اقدار کے درمیان شدید ٹکراؤ دیکھا جاتا ہے۔

اس واقعے نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جو اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانونی اور سماجی اقدامات ضروری ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter