جہیز کے تنازع نے شادی کی خوشیاں ماتم میں بدل دیں، دلہن کے والد دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں شادی کی تقریب اس وقت افسوسناک سانحے میں تبدیل ہو گئی جب جہیز اور حق مہر کے معاملے پر ہونے والے تنازع نے ایک خاندان کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ واقعے میں دلہن کے والد دل کا دورہ پڑنے سے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ بعد ازاں ہونے والے ہنگامے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

latest urdu news

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتر پردیش کے گاؤں اسلام نگر کے رہائشی ثاقب نے اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ تقریب خوشگوار ماحول میں جاری تھی، تاہم شادی کی رسومات سے قبل دلہا اور دلہن کے خاندانوں کے درمیان جہیز اور حق مہر کے معاملات پر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔

جہیز کے مطالبات پر کشیدگی

دلہن کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ شادی طے ہونے کے بعد سے دلہے کے گھر والوں کی جانب سے اضافی جہیز کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق ابتدا میں ایک اسکوٹر کا مطالبہ کیا گیا، بعد ازاں یہ مطالبہ موٹرسائیکل تک پہنچ گیا اور پھر ایک لاکھ بھارتی روپے نقد رقم کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتے ہوئے مطالبات نے پہلے ہی دونوں خاندانوں کے درمیان تناؤ پیدا کر رکھا تھا، جو شادی کے روز کھل کر سامنے آگیا۔

حق مہر پر اختلاف کے دوران دل کا دورہ

رپورٹس کے مطابق معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب حق مہر کی رقم پر بحث شروع ہوئی۔ دلہن کے اہل خانہ پانچ لاکھ بھارتی روپے حق مہر مقرر کرنے پر زور دے رہے تھے، جبکہ دلہے کے فریق نے 21 ہزار روپے سے زیادہ رقم دینے سے انکار کر دیا۔

بھارت میں جہیز کا مطالبہ، سونے کی چین نہ دینے پر نئی نویلی دلہن کے قتل کا الزام

بحث و تکرار اور کشیدہ ماحول کے دوران دلہن کے والد ثاقب کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹرز ان کی جان نہ بچا سکے اور ان کے انتقال کی تصدیق کر دی گئی۔

موت کی خبر کے بعد ہنگامہ آرائی

ثاقب کی وفات کی خبر جب شادی ہال میں پہنچی تو صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دلہن کے اہل خانہ نے شدید غم اور غصے کے عالم میں دلہا اور اس کے چند رشتہ داروں کو روک لیا۔ اس دوران بعض مہمانوں کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔

ہنگامے سے بچنے کے لیے کئی افراد نے قریبی مکان کی چھت کے راستے نکلنے کی کوشش کی، لیکن اسی دوران چھت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا جس کے نتیجے میں چند افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس نے حالات پر قابو پا لیا

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں لے لیا۔ حکام کے مطابق دونوں فریقین کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے اصل محرکات، جہیز سے متعلق الزامات اور ہنگامہ آرائی کے دوران پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

جنوبی ایشیا میں جہیز کا مسئلہ

سماجی ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں قانونی پابندیوں اور آگاہی مہمات کے باوجود جہیز کا مسئلہ اب بھی ایک سنگین سماجی چیلنج بنا ہوا ہے۔ متعدد مواقع پر جہیز کے مطالبات خاندانوں کے درمیان تنازعات، مالی دباؤ اور بعض اوقات افسوسناک واقعات کا سبب بنتے ہیں۔

اتر پردیش کا یہ واقعہ بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شادی جیسے خوشی کے موقع پر مالی مطالبات اور تنازعات کس طرح انسانی جانوں کے ضیاع اور خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter