بھارت میں جہیز کے مطالبے پر ایک نئی نویلی دلہن کے مبینہ قتل کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں جہیز کے مسئلے اور گھریلو تشدد پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔
چند ہفتے قبل شادی، پھر مبینہ تشدد کا سلسلہ
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 سالہ سنجو کماری کی شادی حال ہی میں ونود پال نامی شخص سے ہوئی تھی۔ اہلِ خانہ کے مطابق شادی نہایت دھوم دھام سے کی گئی تھی اور لڑکی کے والدین نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر جہیز دیا، جس میں تقریباً 4 لاکھ روپے نقد، موٹر سائیکل، فریج، فرنیچر اور دیگر گھریلو سامان شامل تھا۔
اس کے باوجود شادی کے دن ہی دلہے کے گھر والوں کی جانب سے مبینہ طور پر سونے کی چین کا اضافی مطالبہ بھی کیا گیا، جس پر لڑکی کے والدین نے اسے بعد میں پورا کرنے کا وعدہ کیا۔
“سونے کی چین نہ لانے پر طعنہ زنی”
متوفیہ کے بھائی شیوم کے مطابق شادی کے بعد بھی سنجو کو سسرالیوں کی جانب سے مسلسل طعنہ زنی کا سامنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے بار بار یہ کہا جاتا تھا کہ مکمل جہیز کے باوجود سونے کی چین کیوں نہیں لائی گئی۔
بھائی نے الزام لگایا کہ سسرالی افراد، جن میں شوہر، ساس، سسر اور نند شامل تھے، سنجو کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور اسے اپنے والدین سے رابطہ کرنے سے بھی روکا جاتا تھا۔
آخری فون کال اور مبینہ چیخ و پکار
شیوم کے مطابق جب انہوں نے اپنے بہنوئی ونود پال سے بہن کی خیریت کے بارے میں پوچھا تو فون ساس نے چھین لیا۔ ان کے مطابق اس دوران انہیں دھمکی دی گئی کہ اب ان کی بہن زندہ واپس نہیں آئے گی۔
بھارت: بیوی نے جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے شوہر کو پھنسوا کر گرفتار کرا دیا
بھائی نے دعویٰ کیا کہ فون کال کے دوران انہوں نے اپنی بہن کی چیخ و پکار بھی سنی، جس کے بعد کال اچانک منقطع ہوگئی۔
قتل اور ثبوت مٹانے کا الزام
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ سنجو کماری کو گلا دبا کر قتل کیا گیا اور بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے جلد بازی میں آخری رسومات بھی ادا کر دی گئیں۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد خاندان نے پولیس میں شکایت درج کرائی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزمہ (ساس) کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کا ابتدائی مؤقف
پولیس کے مطابق گرفتار ساس سمترا دیوی نے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ سونے کی چین کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا اور اس کے بعد سنجو نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔
تاہم اہلِ خانہ اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم قتل قرار دے رہے ہیں۔
جہیز اور گھریلو تشدد کا مسئلہ
جنوبی ایشیا میں جہیز سے متعلق تشدد اور خواتین کے ساتھ ناروا سلوک ایک دیرینہ سماجی مسئلہ ہے۔ مختلف انسانی حقوق تنظیمیں طویل عرصے سے اس رجحان کے خاتمے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں، تاہم اس نوعیت کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں، جو قانون سازی اور سماجی رویوں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
