اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے فلوٹیلا کارکنوں کی اسپین واپسی کے دوران ائیرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ پولیس کارروائی کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
ائیرپورٹ پر استقبال کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی
اسرائیلی حراست سے رہائی کے بعد غزہ جانے والے فلوٹیلا مشن کے چھ کارکن جب اسپین پہنچے تو ان کے استقبال کے دوران ائیرپورٹ پر کشیدگی پیدا ہوگئی۔
غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ شمالی اسپین کے شہر Bilbao کے ائیرپورٹ پر پیش آیا، جہاں کارکنوں کے حامیوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے جمع تھی۔
رپورٹس کے مطابق ائیرپورٹ ہال میں موجود افراد کارکنوں سے ملاقات اور استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے، تاہم بعد میں صورتحال اچانک کشیدہ ہو گئی۔
جھڑپیں کیسے شروع ہوئیں؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب ایک کارکن کے رشتہ دار نے ان سے ملنے کی کوشش کی، تاہم پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔
اس دوران دونوں جانب تلخ کلامی کے بعد صورتحال بگڑ گئی اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اور وہاں موجود بعض افراد کے درمیان دھکم پیل اور ہنگامہ دیکھا جا سکتا ہے۔
غزہ جانے والے فلوٹیلا پر کارروائی: اسرائیلی عدالت نے دو کارکنوں کی حراست میں توسیع کر دی
ویڈیوز میں بعض افراد کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں، تاہم واقعے کے تمام حالات اور مکمل پس منظر کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پولیس کا مؤقف اور گرفتاریاں
علاقائی پولیس فورس ارٹزائنٹزا کے مطابق واقعے کے دوران چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر گرفتاری میں مزاحمت اور اہلکاروں پر حملے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں اسرائیلی حراست سے رہا ہونے والے دو فلوٹیلا کارکن بھی شامل ہیں۔
تحقیقات کا آغاز
پولیس حکام نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد داخلی امور کے متعلقہ شعبے نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بیان کے مطابق تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا واقعے کے دوران پولیس اہلکاروں کی کارروائی مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق تھی یا نہیں۔
غزہ فلوٹیلا مشنز کا پس منظر
غزہ جانے والے فلوٹیلا مشنز ماضی میں بھی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں۔ ایسے مشن عام طور پر انسانی امداد، سیاسی پیغام رسانی یا فلسطینی علاقوں کے لیے حمایت کے اظہار کے طور پر ترتیب دیے جاتے ہیں۔
تاہم اس نوعیت کی سرگرمیاں اکثر سیاسی اور سکیورٹی حساسیت کے باعث مختلف تنازعات اور سفارتی ردعمل کا سبب بھی بنتی رہی ہیں۔ موجودہ واقعے کے بعد بھی مختلف حلقوں کی نظریں تحقیقات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔
