برلن کے ٹیئرگارٹن پارک میں جاری تقریب کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس نے مشتبہ ڈرائیور کی تلاش تیز کر دی، جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
برلن میں تقریب کے دوران افسوسناک واقعہ
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک وین ڈرائیور نے اپنی گاڑی ہجوم پر چڑھا دی۔ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور پولیس سمیت امدادی اداروں نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ برلن کے معروف ٹیئرگارٹن پارک میں پیش آیا، جہاں ایک تقریب کے سلسلے میں بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔ اسی دوران ایک سفید رنگ کی وین اچانک ہجوم کی جانب بڑھی اور کئی افراد کو اپنی زد میں لے لیا۔
ایک ہلاکت، متعدد افراد زخمی
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 16 افراد زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ ایک شخص موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔
واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ شدید زخمی افراد کی فوری منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر کی مدد بھی حاصل کی گئی تاکہ انہیں بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ٹرمپ کا دعویٰ: چین اور روس ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کریں گے، خلاف ورزی دونوں کے مفاد میں نہیں
پولیس کی تحقیقات اور ملزم کی تلاش
برلن پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ ڈرائیور کی شناخت کر لی گئی ہے، تاہم تاحال اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیشی ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ یہ واقعہ حادثہ تھا یا جان بوجھ کر کیا گیا حملہ۔ اسی لیے ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
جرمنی میں عوامی مقامات کی سکیورٹی پر توجہ
حالیہ برسوں میں یورپ کے مختلف ممالک میں عوامی مقامات پر گاڑیاں ہجوم پر چڑھانے کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کے بعد سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے ہیں۔ ایسے واقعات کے تناظر میں جرمن حکام بھی عوامی اجتماعات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔
برلن کے تازہ واقعے کے بعد بھی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی نوعیت اور محرکات سے متعلق مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
