ارجنٹینا میں ایک ٹی وی پریزینٹر نے فٹبال اسٹار لیونل میسی کے والد کے انتقال سے متعلق جھوٹی خبر نشر کرنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک لائیو نشریات کے دوران غلط اطلاع نے ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین میں شدید تشویش اور الجھن پیدا کر دی۔
یہ واقعہ ایک ٹی وی شو کے دوران پیش آیا، جہاں 51 سالہ میزبان فلورینسیا پینا نے یہ دعویٰ کیا کہ میسی کے والد کا اچانک انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق، "میں کوئی بری خبر دینا نہیں چاہتی، لیکن آپ کو بتانا پڑے گا کہ میسی کے والد ابھی ابھی وفات پا گئے ہیں۔”
جھوٹی خبر کی تیزی سے پھیلاؤ
لائیو پروگرام میں دی گئی اس اطلاع کے بعد یہ خبر چند ہی منٹوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ارجنٹینا سمیت دنیا بھر میں فٹبال شائقین میں افسوس اور سوگ کی فضا پیدا ہو گئی۔ تاہم کچھ دیر بعد صورتحال اس وقت واضح ہوئی جب خبر کی تصدیق نہ ہو سکی۔
بعد ازاں خود میزبان نے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس خبر کی باضابطہ تصدیق موجود نہیں ہے۔ اس تاخیر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
میسی فیملی کی تردید
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، جب یہ خبر لیونل میسی کے اہل خانہ تک پہنچی تو انہوں نے فوری طور پر اس کی تردید کر دی۔ فیملی نے واضح کیا کہ میسی کے والد کی وفات کی خبر درست نہیں ہے، البتہ ان کی طبیعت کچھ عرصے سے خراب ہے اور وہ ایک نامعلوم بیماری کے باعث زیر علاج ہیں، تاہم ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔
یہ وضاحت سامنے آنے کے بعد غلط خبر پر پھیلنے والی تشویش میں کمی آئی، لیکن اس واقعے نے میڈیا کی ذمہ داری اور تصدیق کے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے۔
میزبان کا استعفیٰ اور معافی
واقعے کے بعد ٹی وی میزبان فلورینسیا پینا نے سوشل میڈیا پر معافی نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غلطی پر شرمندہ ہیں۔ ان کے مطابق انہیں یہ معلومات اپنی پروڈکشن ٹیم کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں، جن پر انہوں نے اعتماد کیا، تاہم یہ خبر غلط ثابت ہوئی۔
انہوں نے اپنے بیان میں میسی کی فیملی سے معذرت بھی کی اور اس غلطی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔
میڈیا کی ذمہ داری پر سوالات
اس واقعے کے بعد ارجنٹینا میں ٹی وی انتظامیہ نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ میڈیا ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی غلط معلومات نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا کرتی ہیں بلکہ کسی بھی معروف شخصیت اور ان کے خاندان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنتی ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ لائیو نشریات میں خبر کی تصدیق اور احتیاط انتہائی ضروری ہے، تاکہ غیر مصدقہ اطلاعات عوام تک نہ پہنچیں اور غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔
