کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے سوئمرز کی مہم توقعات کے مطابق آگے نہ بڑھ سکی۔ جہاں آرا نبی خواتین کے 100 میٹر فری اسٹائل میں ہیٹس سے آگے نہ جا سکیں، جبکہ حمزہ آصف نے قومی ریکارڈ بہتر بنانے کے باوجود سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کیا۔
خواتین کے 100 میٹر فری اسٹائل میں جہاں آرا نبی باہر
کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی سوئمرز کی مایوس کن کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں خواتین کے 100 میٹر فری اسٹائل مقابلوں میں پاکستان کی جہاں آرا نبی ہیٹس سے آگے نہ بڑھ سکیں۔
جہاں آرا نبی نے ایونٹ میں 1 منٹ 0.36 سیکنڈ کی ٹائمنگ ریکارڈ کی۔ مجموعی طور پر مقابلے میں شریک 64 سوئمرز میں وہ 36 ویں نمبر پر رہیں، جبکہ بہترین 16 کھلاڑیوں نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
حمزہ آصف نے قومی ریکارڈ بہتر بنا دیا
دوسری جانب مردوں کے 50 میٹر بریسٹ اسٹروک ایونٹ میں پاکستان کے حمزہ آصف نے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی ریکارڈ بہتر بنا دیا۔
حمزہ آصف نے 29.63 سیکنڈز میں ریس مکمل کی، جو ان کے گزشتہ قومی ریکارڈ 29.99 سیکنڈز سے بہتر ہے۔ تاہم، اس نمایاں انفرادی کامیابی کے باوجود وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
انعم عزیر نے پاکستان کی پہلی 100 کلومیٹر الٹرا میراتھون جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی
ہیٹس کے مرحلے میں حمزہ آصف 50 سوئمرز میں 27 ویں پوزیشن پر رہے، جبکہ سیمی فائنل کے لیے درکار درجہ بندی حاصل نہ کر سکے۔
قومی ریکارڈ میں بہتری، لیکن عالمی معیار کا سخت مقابلہ
کھیلوں کے بڑے عالمی مقابلوں میں قومی ریکارڈ بہتر بنانا کسی بھی کھلاڑی کے لیے اہم کامیابی تصور کی جاتی ہے، تاہم سیمی فائنل یا فائنل تک رسائی کے لیے عالمی معیار کی رفتار اور سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حمزہ آصف کی کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستانی تیراک اپنی ذاتی اور قومی سطح کی کارکردگی میں بہتری لا رہے ہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر مزید بہتر نتائج کے لیے مسلسل تربیت، جدید سہولیات اور عالمی معیار کے مقابلوں میں باقاعدہ شرکت کی ضرورت برقرار ہے۔
پاکستان کی نظریں آئندہ مقابلوں پر
اگرچہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی سوئمرز اب تک نمایاں کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے، تاہم قومی ریکارڈز میں بہتری اور نوجوان کھلاڑیوں کی شرکت مستقبل کے لیے مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ کھیلوں کے ماہرین کے مطابق مستقل تیاری، جدید کوچنگ اور بین الاقوامی تجربے سے پاکستانی تیراک آنے والے علاقائی اور عالمی مقابلوں میں بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔
