پاکستانی کوہ پیما اور ٹریل رنر انعم عزیر نے گلیات ماؤنٹین ٹریل الٹرا میراتھون میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کی پہلی 100 کلومیٹر الٹرا میراتھون جیت لی، جسے خواتین کی کھیلوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی پہلی 100 کلومیٹر الٹرا میراتھون میں تاریخی کامیابی
کوہ پیمائی اور ٹریل رننگ کے میدان میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والی پاکستانی مہم جو انعم عزیر نے پاکستان میں منعقد ہونے والی پہلی 100 کلومیٹر گلیات ماؤنٹین ٹریل الٹرا میراتھون جیت کر ایک اور نمایاں کامیابی اپنے نام کر لی۔
یہ مقابلہ دشوار گزار پہاڑی راستوں، گھنے جنگلات، بلند و نشیب زمین اور قدرتی خطرات سے بھرپور ماحول میں منعقد کیا گیا، جہاں شرکا کو نہ صرف طویل فاصلے بلکہ سخت موسمی اور جغرافیائی حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود انعم عزیر نے غیر معمولی عزم، برداشت اور جسمانی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
کامیابی پاکستانی خواتین کے نام
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انعم عزیر نے کہا کہ وہ اپنی یہ کامیابی پاکستان کی تمام خواتین، خصوصاً خواتین رنرز کے نام کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف ذاتی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا بھی ہے کہ اگر خواتین کو مواقع اور حوصلہ افزائی ملے تو وہ ہر میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ مستقبل میں بھی منفرد اور مشکل چیلنجز قبول کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
راستے میں قدرتی اور جنگلی حیات کے خطرات
انعم عزیر نے بتایا کہ 100 کلومیٹر کا یہ مقابلہ ہرگز آسان نہیں تھا اور انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ دورانِ ریس مختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کا خطرہ موجود رہتا ہے، جبکہ ٹریل رننگ کے دوران جنگلی حیات کا سامنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کوہ پیمائی اور ٹریل رننگ دونوں میں خطرات موجود ہیں، تاہم دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
لندن میراتھون میں تاریخ رقم: پہلی بار دو ایتھلیٹس نے 2 گھنٹے سے کم وقت میں ریس مکمل کر لی
انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا کہ 40 کلومیٹر کی پریکٹس رن کے دوران انہوں نے تقریباً 200 فٹ کے فاصلے پر اپنے راستے میں ایک تیندوا بیٹھا دیکھا تھا۔ اس واقعے کے باوجود انہوں نے خوف پر قابو پایا اور اپنے اعتماد کو برقرار رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ان کے ذہن سے خوف نکل گیا اور انہوں نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ ہر صورت یہ چیلنج مکمل کرنا ہے۔
کوہ پیمائی اور ٹریل رننگ میں فرق
انعم عزیر کے مطابق کوہ پیمائی اور ماؤنٹین ٹریل رننگ دو مختلف نوعیت کے کھیل ہیں، اس لیے ان کا آپس میں براہِ راست موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کوہ پیمائی میں برفانی طوفان، بلند چوٹیاں اور دیگر مخصوص خطرات ہوتے ہیں، جبکہ ٹریل رننگ میں دشوار گزار راستے، جنگلات اور جنگلی جانوروں جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ٹریل رننگ نسبتاً کم وقت لیتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے خاندان اور بچوں کو بھی مناسب وقت دے پاتی ہیں۔
مستقل ٹریننگ ہی کامیابی کی بنیاد ہے
اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے انعم عزیر نے کہا کہ وہ سال بھر باقاعدگی سے جسمانی فٹنس پر کام کرتی ہیں اور ورزش کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ سمجھتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ ٹریننگ کرتی ہیں اور اکثر 100 سے زائد منزلوں کے برابر سیڑھیاں چڑھتی ہیں تاکہ اپنی جسمانی صلاحیت برقرار رکھ سکیں۔ ان کے مطابق فٹنس صرف کھلاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ ہر فرد کے لیے ضروری ہے، کیونکہ صحت مند طرزِ زندگی ہی بڑے اہداف حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
انعم عزیر نے مزید بتایا کہ وہ مستقبل کے لیے بھی ایک نئے اور مشکل چیلنج کی تیاری کر رہی ہیں، جس کا مقصد ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر کامیابی کو ملک اور پاکستانی خواتین کے حوصلے اور صلاحیتوں کی نمائندگی سمجھتی ہیں۔
