سندھ کے علاقے ٹھل میں پسند کی شادی کے معاملے پر کشیدگی شدت اختیار کر گئی، جہاں مبینہ طور پر لڑکی کے ورثاء نے مخالف برادری کے گاؤں پر حملہ کر کے متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔
رپورٹس کے مطابق گاؤں غازی خان چنہ کی رہائشی صدرا چنہ نے محمد حسن برڑو کے ساتھ پسند کی شادی کی تھی۔ شادی کے بعد لڑکی کے اہل خانہ اور چنہ برادری کے افراد نے برڑو برادری کے گاؤں پر دھاوا بول دیا، جس کے نتیجے میں کئی مکانات جل کر خاکستر ہو گئے جبکہ خوف و ہراس کے باعث متعدد خاندان علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
صدرا چنہ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے حیدرآباد کی عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بالغ ہیں اور ان پر کم عمری کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ گھر سے صرف ایک جوڑا کپڑے لے کر نکلی تھیں اور کسی قسم کا سامان ساتھ نہیں لیا۔
بھارت میں دل دہلا دینے والا واقعہ، شادی کی تقریب میں بچہ تندور میں گر کر جھلس گیا
دوسری جانب برڑو برادری نے حکام سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ شادی کرنے والے جوڑے نے بھی اپنی جان کو خطرہ قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گاؤں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے پر چنہ برادری کے تقریباً 30 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اب تک 5 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
